دانتوں کی پیدائش کب ہوتی ہے- رافعہ عروہ افضل بنگلور
دودھ اور مستقل دانتوں کی حیرت انگیز سائنسی کہانی
جب کوئی بچہ مسکراتا ہے تو اس کے ننھے ننھے دانت اس کی معصومیت میں مزید دلکشی پیدا کر دیتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ دانت آخر بنتے کیسے ہیں؟ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دانت پیدائش کے بعد بننا شروع ہوتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ انسانی دانتوں کی تشکیل کا عمل بچے کی پیدائش سے کئی ماہ پہلے ماں کے رحم میں ہی شروع ہو جاتا ہے۔
دانت اور ہڈیاں بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ دونوں سخت، سفید رنگ کے اور کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن سائنسی اعتبار سے دونوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ہڈیاں زندہ بافتوں پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں اور وہ وقت کے ساتھ خود کو جزوی طور پر مرمت بھی کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس دانتوں کی بیرونی تہہ، جسے انیمل کہا جاتا ہے، جسم کا سب سے سخت مادہ ہونے کے باوجود دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتی۔
حمل کے تقریباً چھٹے سے آٹھویں ہفتے کے دوران بچے کے مسوڑھوں کے اندر مخصوص بنیادی خلیات سرگرم ہونا شروع ہوتے ہیں۔ یہی خلیات بعد میں دانتوں کی ابتدائی ساخت تیار کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ خلیات مختلف اقسام میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ بعض خلیات دانت کے اندرونی حصے ڈینٹن کی تشکیل کرتے ہیں جبکہ کچھ خلیات دانت کی بیرونی سخت تہہ انیمل بناتے ہیں۔
انیمل ایک معدنی مادے سے بنتا ہے جو دانتوں کو مضبوطی اور پائیداری فراہم کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انیمل بنانے والے خلیات اپنا کام مکمل کرنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں، اسی وجہ سے اگر انیمل کو نقصان پہنچ جائے تو جسم اسے قدرتی طور پر دوبارہ نہیں بنا سکتا۔
جب بچہ تقریباً چھ ماہ کا ہوتا ہے تو اس کے پہلے دودھ کے دانت مسوڑھوں سے باہر آنا شروع ہوتے ہیں۔ یہ دانت دراصل وہی ہوتے ہیں جن کی تشکیل رحمِ مادر میں شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ تاہم اسی دوران مسوڑھوں کے اندر مستقل دانتوں کی تیاری بھی جاری رہتی ہے جو آنے والے برسوں میں دودھ کے دانتوں کی جگہ لیتے ہیں۔
بچپن کے دوران مستقل دانت آہستہ آہستہ دودھ کے دانتوں کی جڑوں کو تحلیل کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً دودھ کے دانت ہلنے لگتے ہیں اور بالآخر گر جاتے ہیں۔ اس کے بعد مستقل دانت اپنی جگہ سنبھال لیتے ہیں اور عموماً پوری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔
انسانی جسم میں دانت بنانے والے بنیادی خلیات محدود مدت تک ہی فعال رہتے ہیں۔ مستقل دانت مکمل ہونے کے بعد یہ خلیات غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اگر کوئی مستقل دانت ضائع ہو جائے تو اس کی جگہ قدرتی طور پر نیا دانت نہیں اگتا۔
قدرت نے بعض جانوروں کو اس معاملے میں انسانوں سے مختلف صلاحیت دی ہے۔ مثال کے طور پر شارک کے منہ میں دانتوں کی کئی قطاریں موجود ہوتی ہیں۔ اگر ایک دانت ٹوٹ جائے یا گر جائے تو اس کی جگہ پیچھے سے نیا دانت آ جاتا ہے۔ یہ عمل پوری زندگی جاری رہ سکتا ہے، جبکہ انسان صرف دودھ کے دانت اور مستقل دانت، یعنی دو ہی قدرتی سیٹ حاصل کرتا ہے۔
سائنس دان آج بھی دانتوں کی دوبارہ افزائش پر تحقیق کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں بنیادی خلیات کی مدد سے نئے دانت اُگانے کی ٹیکنالوجی ممکن ہو سکے گی۔ فی الحال مستقل دانتوں کی حفاظت ہی بہترین حکمتِ عملی ہے، کیونکہ ایک بار انہیں نقصان پہنچ جائے تو جسم خود ان کی مکمل تلافی نہیں کر سکتا۔
ڈسکلیمر: یہ مضمون عمومی معلومات اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ دانتوں کی صحت یا کسی طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا ماہرِ دندان سے مشورہ ضرور کریں۔



