تاریخی پس منظر آفات، جنگیں، مصائب اور انسان-ظفر محی الدین
انسانی تاریخ ترقی اور تباہی دونوں کی کہانی ہے۔
انسان نے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے اب تک جتنے ہتھیار تیار کئے ہیں ان میں زیادہ مہلک اور خطرناک کیمیاوی ہتھیار ہیں۔ یہ زہریلے کیمیکل ہیں جو گیس کی صورت میں بھی ہیں اور پائوڈر میں بھی۔ ان کو ہوا کے ذریعہ بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں جس تیزی سے دنیا میں سیکڑوں سائنس دان اور ماہرین کام کررہے ہیں، یہ مصنوعی ذہانت کے حصول کی دوڑ ہے جس میں بیشتر ممالک نے ہزاروں روبوٹ تیار کرلئے ہیں جو دنیا کا ہر کام کرسکتے ہیں وہ بھی جوانسان کے بس میں نہیں ہے۔
انسان نے اتنی ساری قدرتی آفات کے باوجود اپنی ترقی اور خوشحالی کے لئے کچھ اہم ترین ایجادات کی ہیں جو خود اپنے طور تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔ مثلاً گلوبل سسٹم آف سائبر ٹیکنالوجی جو دنیا کی معیشت، صنعتوں، سرمایہ کاری، بینکاری اور سیاست کو فروغ دینے کے لئے انتہائی مفید سسٹم ہے۔ اس سے دیگر شعبہ ہائے زندگی میں مدد لی جارہی ہے۔ اس نظام کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر طرف استعمال کیا جارہا ہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ مفاد پرست یا جرائم پیشہ ماہر اس کو منفی طور پر بھی استعمال کررہے ہیں۔
کرہ ارض پر انسانی حیات اور بقا کی جدوجہد ایک طرف آگ اور خون سے لبریز جنگ و جدل سے بھری پڑی ہے تو دوسری طرف قدرتی آفات اور خوفناک وبائی امراض کی تباہ کاریوں سے بھری ہے۔ انسانی تاریخ میں مختلف طاعونی وبائی امراض کے لرزہ خیز واقعات رقم ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کی جانیں گئیں، شہر اجڑے، ملک برباد ہوگئے اور تہذیبیں مٹ کر رہ گئیں۔ یہ خوفناک اور ہولناک سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
پانچ ہزار قبل مسیح میں ’’صر‘‘ نامی طاعون دنیا میں پھیلا تھا غالباً اس کی شروعات چین کے قصبے سے شروع ہوئی تھیں، اس وبائی بیماری نے اطراف کے تمام علاقوں کی آبادیوں کو مٹادیا تھا۔ ماہر آثار قدیمہ نے اس گائوں کی کھدائی کی تو اس جگہ اور اطراف میں سیکڑوں جلی ہوئی کھوپڑیاں دریافت ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طاعون میں مبتلا ہو کر مرنے والوں کی لاشوں کو گڑھوں میں ڈال کر جلادیا گیا تھا۔ اس جگہ کا قدیم نام ہامین منگا تھا۔ ماہر آثار قدیمہ نے چین کے شمال مشرق کے علاقے میں بھی ایک شہر دریافت کیا جہاں اسی قسم کی وبائی بیماری اس تیزی سے پھیلی کہ وہ شہر سمیت اطراف کی آبادیاں بھی موت کا شکار ہوئیں، لوگوں کو دفنانے کا بھی موقع نہیں ملا۔
430 قبل مسیح میں یونان کے شہر ایتھنز میں پلیگ کی وبائی بیماری کے پھیلنے کے آثار ملے ہیں۔ اس وقت یونان اور اسپارٹا کی جنگ جاری تھی، یہ خطرناک وبائی مرض پانچ سال تک چلتا رہا۔ اس طاعون میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ معروف یونانی تاریخ داں تھیس ڈمیڈنٹ کے مطابق تندرست و توانا فرد کا یکایک سرگرم ہوجانا، آنکھیں سرخ ہونا، منہ سے خون بہنا اور تپتے ہوئے جسم کے ساتھ گر کر ہلاک ہوجانا تھا۔ ستم یہ کہ اس وبائی مرض کے باوجود یونان اور اسپارٹا میں جنگ جاری رہی اور اسپارٹا کو زبردست شکست ہوئی۔ یونانی یہ جنگ جیت کر بھی وبائی مرض سے ہار گئے۔
180 عیسوی میں روم میں انٹونیو نامی پلیگ کی وبا پھوٹ پڑی۔ اس طاعون کے روم میں پھیلنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ رومن اپنے پڑوس میں ایک بڑی جنگ جیت کر واپس آرہے تھے وہ اپنے ساتھ یہ بیماری بھی لے آئے۔ اس کا کسی کو علم نہ تھا۔ یہ چیچک کی وبا تھی جو کچھ دنوں بعد ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ اس وبا کا نام انٹونیو پلیگ رکھا گیا کیونکہ سب سے پہلے اس نام کے سپاہی کو چیچک نکلی تھی۔ اس طاعون نے آناً فاناً پوری فوج سمیت پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس خوفناک طاعون سے روم اور اس کے اطراف میں آباد تقریباً تیس لاکھ افراد موت کی نیند سوگئے۔ اس میں یہی ہوا کہ رومن اور اسپارٹا کی جنگ تھی جس میں رومی فتح یاب ہو کر بھی اس طاعون کے ہاتھوں برباد ہوگئے۔
250 عیسوی میں روم میں پھر ایک وبائی بیماری نے ڈیرے ڈال دیئے جس کو سائبیرین پلیگ کا نام دیا گیا ہے۔ اس وبائی بیماری سے ہر روز تقریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہورہے تھے اور رومن کہتے تھے دنیا کا خاتمہ ہورہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے۔ لاشوں کو بڑے بڑے گڑھوں میں ڈال کر ان پر چونا لیپ کردیا گیا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایسی قبریں بھی کھودی ہیں جن میں لاشوں کو آگ لگا کر جلایا گیا اور ان پر بھی چونا ڈالا گیا۔
540 عیسوی میں بازنطینی ایمپائر کے دور میں جیئن نامی ایک وبائی مرض پھوٹ پڑا۔ اس دور میں بازنطینی کی سلطنت مشرقی و مغربی یورپ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس وبائی مرض میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس سے بہت سے شہر اور گاؤں ویران ہوگئے اور سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔
1342 عیسوی میں مغربی ایشیا کے کچھ علاقوں میں بلیک ڈیتھ نامی پلیگ کی وبا پھوٹ پڑی جو یورپ کے علاقوں میں پھیل گئی۔ اس خوفناک طاعون سے آدھا یورپ متاثر ہوا۔ شہروں اور گاؤں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور مزدوروں کی شدید کمی پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف رجحان بڑھا۔
1568 میں میکسیکو اور وسطی امریکہ میں کوکولیز نامی وائرس پھیلا جو ایک شدید بخار کی بیماری تھی۔ اس میں سردی لگتی، بخار چڑھتا اور ناک سے خون بہتا، جس کے بعد مریض جاں بحق ہوجاتا۔ اس بیماری نے تین سال تک تباہی مچائی اور پندرہ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
سولہویں صدی کے آخری عشروں میں شمالی امریکہ کے ساحلی شہروں میں پلیگ کی وبا پھیلی۔ یہ بیماری یورپی مہاجرین اپنے ساتھ لائے تھے اور اس نے مقامی ریڈ انڈین آبادی کو بھی شدید متاثر کیا۔
1664 میں لندن میں طاعون پھیلا جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 1666 میں شہر میں عظیم آگ لگی جس نے آدھے شہر کو تباہ کر دیا۔
1720 میں فرانس کے شہر مرسیلز میں طاعون چوہوں کے ذریعے پھیلا اور ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
1770 میں ماسکو میں طاعون کے دوران قرنطینہ کے خلاف بغاوت ہوئی، مگر سخت اقدامات کے بعد وبا پر قابو پایا گیا۔
1793 میں فلاڈلفیا میں یلو فیور پھیلا جس میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
1916 میں نیویارک میں پولیو پھیلا، بعد میں 1954 میں اس کی ویکسین تیار کی گئی اور دنیا بھر میں مہم کے ذریعے اسے تقریباً ختم کر دیا گیا۔
1918 میں اسپینش فلو دنیا کی سب سے مہلک وباؤں میں شامل ہوا جس میں تین کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
1958 میں فلو کی نئی قسم سامنے آئی، 2009 میں سوان فلو پھیلا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
2019 میں کرونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تعلیمی ادارے، صنعتیں، سفر اور سماجی سرگرمیاں بند ہوگئیں اور دنیا ایک غیر معمولی خاموشی میں ڈوب گئی۔



