مجربات رحیمی- پھوڑے، پھنسی✍️ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
پھنسی کی صورت میں جلد پر سوجن ہوتی ہے، اگر پھنسی میں بال نظر آئے تو اس کو کھینچ کر باہر نکال لیں لیکن یاد رکھیں ناخن سے اس کو نہ نوچیں
اکثر موسم برسات یا موسم گرما کے آخر میں پھوڑے پھنسیاں نکل آتے ہیں۔خرابیٔ خون سے یہ عارضہ پیدا ہوجاتا ہے جسم میلا کچیلا ہونے سے بھی یہ شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔
پہچان: پھنسی کی صورت میں جلد پر سوجن ہوتی ہے، اگر پھنسی میں بال نظر آئے تو اس کو کھینچ کر باہر نکال لیں لیکن یاد رکھیں ناخن سے اس کو نہ نوچیں اس صورت میں وہ پھوڑا یا پھنسی زیریلہ ہوجاتا ہے، پھوڑے کی حالت میں شروع میں مقامِ ماؤف سرخ، متورم اور گرم ہوتا ہے۔ ورم میں ٹیس اور درد بھی ہوتا ہے، اس کے بعد پیپ پڑکر نرم ہوجاتا ہے اور کسی طرف منہ بنا لیتا ہے، پھوڑے کی خاص شناخت یہ ہے کہ اگر پھوڑے کے ایک طرف ہاتھ جماکر رکھیں اور دوسری طرف ایک یا دو انگلیوں سے ٹکرائیں تو ایک لہر محسوس ہوتی ہے، یہ لہر رسولیوں اور ورموں میں نہیں ہوتی۔
تدبیر: پھنسی کی حالت میں پھوڑے کو پکانے والا مرہم لگاکر باندھیں، پھنسی کا مواد تندرست جگہ پر نہ لگنے دیں، مریض کے پیشاب کی جانچ کی جانی بھی ضروری ہے، کیونکہ مرض ذیابیطس شکری کی وجہ سے اکثر یہ مرض ہوجایا کرتا ہے اور ایسی حالت میں اصل مرض یعنی ذیابیطس کا علاج کرنا ضروری ہے، اس سلسلہ میں آنتوں کا فعل بحال کریں اور غذا میں ہری ترکاریاں کھلائیں، شکر بند کردیں۔ جب پھوڑا پھوٹ جائے تو پھر زخم کو صاف کرنے و بھرنے کے لئے کالا مرہم (جس کا نسخہ آگے دیا گیا ہے) کا استعمال کریں اگر خود بخود منہ نہ بنے اور پھوڑا پختہ ہوکر پلپلا ہوجائے تو شگاف دیا جائے اور بطریق معروف ڈریسنگ کی جائے۔
یاد رکھیں: پھوڑے کو جلد پکانے اور درد کو تسکین دینے کے لئے ٹکور مفید ہے۔
بغل کے پھوڑے کچھرالی یا بغل گند نہایت تکلیف دہ مرض میں شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ چھوت لگنے سے یہ بار بار ہوتے ہیں، بالوں کو استرے سے صاف کر کے کسی ہلکے انٹی سیپٹک گھول سے صاف رکھنا سیپٹک سے بچاؤ کے لئے مفید ہوتا ہے دھیان رہے کہ ہونٹوں کے پھوڑوں کو ہاتھ سے یا ناخن سے نہیں دبانا چاہیے، کیونکہ اس کے انفیکشن کا دماغ تک پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
میرے والد محترم حکیم محمد ادریس حبان رحیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کئی مریضوں کو دیکھا جنہوں نے ناخن سے پھنسی یا پھوڑے کو دبایا، یا نوچا تو وہ بگڑ کر کینسر کی شکل اختیار کرگیا۔زخم وغیرہ سے جب گوشت کے اجزاء الگ ہوجائیں اور اس مقام پر پیپ نہ پڑی ہو تو اسے زخم کہتے ہیں۔ زخم کے شروع ہونے میں یہ خیال رکھیں کہ اس میں کوئی بیرونی چیز داخل نہ ہوجائے، زخم کے ہونٹوں کو ملاکر باندھ دیں، اگر باندھنے سے اس کی نسیں نہ ملتی ہوں تو سوئی سے سی کر ملا دیں۔
ذیل کی ادویہ ہر قسم کے زخموں کیلئے مفید
٭کیکر کے پتے زیرہ سفید کے ساتھ پیس کر زخم پر باندھیں، زخم کو صاف کر کے اچھا کردیتے ہیں۔٭کندر، ایلویرا، انزروت، دم الاخوائن ہموزن باریک پیس کر زخم پر چھڑکیں، یہ گوشت کو پیدا کرتا ہے اور زخم کو اچھا کرتا ہے۔٭گل انار، زرورد، کندر، مرمکی ہموزن باریک پیس کرزخم پر چھڑکیں، نہایت سریع الاثر ہے۔٭اگر زخم میں کیڑے پڑجائیں تو افسنتین باریک پیس کر نمک ملا کر چھڑکیں اور روغن نیم پھریری سے لگائیں۔
زخموں کے لئے عجیب و غریب سفوف
یہ سفوف بہت زیادہ مفید ہے، آگ کے پتے سایہ میں خشک کر کے (کچھ تر ہوں) ہنڈیا میں ڈال کی نیچے اوپر پانچ سیر اپلوں کی آگ دے کر نکال لیں، اب سیاہ رنگ کی راکھ کو پیس لیں، اور کپڑے سے چھان لیں، ہر قسم کے زخموں پر پوڈر کی طرح چھڑک دیں، زخموں کو مندمل کر کے بھرلاتی ہے،مکھی نہیں بیٹھتی۔
مرہم نیم
موم سفید سات گرام، گھی گائے 60گرام، گھی کو آگ پر رکھیں، پھر نیم کی تازہ پتی مناسب مقدار میں گھوٹ کر ٹکیہ بناکر اس گھی میں ڈال دیں، یہاں تک کہ پتے جل جائیں اور سیاہ رنگ کا گھی رہ جائے، پھر موم داخل کر کے مرہم بناکر محفوظ رکھیں، ہر قسم کے زخموں و نواسیر کے لئے مفید ہے۔
پھوڑے کو پکانے کے لئے السی یا بے چھنے موٹے آٹے کی پلٹس بنا کر باندھیں یا بکائن یا نیم کے پتوں کی بھجیا باندھیں یا صابن ریوند چینی، میں پھل اور گوگل برابر وزن لے کر پانی میں گھس کر پھوڑے پر لیپ کریں، پھوڑا پھوٹ جائے تو درج ذیل مجربات اس مرض کا موثر علاج ہیں۔
پُلٹس برائے پھنسی
السی ، گندم کا آٹا ، نیم کے پتے ہر ایک 30گرام کو پانی میں پیس کر اور پُلٹس بنا کر باندھیں یا رسوت اور نیم کی اندرونی چھال پانی میں گھس کر پھنسی پر لگائیں۔دیگر:۔ یہ مرہم پھوڑے کو پکاتا ہے۔ السی، میتھی ہر ایک 10گرام، پیاز سفید ایک عدد، ریوند چینی، نمک خوردنی ، نیم کے پتے ہر ایک چھ گرام، کوگل چھ گرام، گندم کا آٹا 50گرام، بدستور پلٹس بنا کر گرم گرم پھوڑے پر باندھیں۔
رسوت
رسوت مدبر 50گرام، گھی خالص 10گرام، گیرو3 گرام، ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنائیں، آدھی سے ایک گولی ماں کے دودھ میں گھس کر دیں، بچوں کے پھوڑے پھنسی کے لئے زود اثر ہے، بڑوں کے لئے ایک سے دو گولی صبح و شام استعمال کرائیں۔
لال روغن
سرسوں کا تیل خالص 200گرام کو آگ پر گرم کریں، پھر نیچے اتار کر جب قدرے ٹھنڈا ہوجائے تو خالص کمیلہ (مٹی والا نہ ہو) 15گرام، ڈال کر کسی لکڑی سے ہلالیں، لال روغن تیار ہے۔
شربت مصفی
عناب 50گرام، برادہ صندل سرخ، برادہ صندل سفید، سرپھوکہ، مہندی کے پتے ، شاہترہ، نیلوفر کے پھول، مکوہ خشک، بیج کاسنی، شیشم کی لکڑی کا برادہ ، منڈی بوٹی کے پھول ہر ایک15گرام، سب دواؤں کو رات کے وقت آٹھ گنا پانی میں بھگو دیں، صبح کو جوش دیں، جب تہائی رہ جائے تو تین گنا چینی ملا کر شربت کا قوام بنائیں، خوراک 20گرام صبح و شام پئیں۔
ملتان کا مرہم
تلوں کا تیل ڈیڑھ کلو، سندھورسوا کلو، دیسی موم 20گرام، کافور 10گرام، نیلا تھوتھا دو گرام، بہروزہ تر 20گرام، تیل میں سندھور ڈال کر پکائیں، جب سیاہ رنگ ہوجائے تو ماسوائے کافور کے باقی ادویہ باریک سفوف کی شکل میں ڈال دیں،کافور نیچے اتار کر ملائیں، مرہم تیار ہے۔گندے سے گندے زخموں کو اچھا کرنے میں لاجواب ہے۔
پستان کا پھوڑا
میدہ گندم میں بیضۂ مرغ کی زردی ملا کر دو تین دفعہ لگانے سے پھوڑا پھوٹ جاتا ہے، پھوٹ جانے پر یہی پُلٹس لگائیں، زخم بھرجائے گا۔پستان کے پھوڑے کو تھنیلا بھی کہتے ہیں یہ عام طور شیر خوار بچہ کا سر پستان میں لگ کر پھوڑا بن جاتا ہے۔ اس میں خون کچ لہو جمع ہوجاتا ہے، البتہ آج کل عورتوں کے سینے میں جو غدود یا گھانٹی ہوجاتی ہے وہ بالکل الگ ہے اور پستان کا پھوڑا الگ ہے۔
خون صفا
صندل سرخ، ہرڑ کالی، منڈی ، چرایتہ، شاہترہ، عشبہ، برہم ڈنڈی، شیشم کا برادہ ہر ایک 25 گرام، عناب 40 عدد تمام دواؤں کو چھ گنا پانی میں ملا کر رات کوپڑا رہنے دیں، دن کو جوش دیں، جب آدھا حصہ پانی رہ جائے تو مل کر چھان لیں۔ اورڈیڑھ گنا کھانڈ ملا کر قاعدہ کے مطابق شربت تیار کریں۔ یہ 20 گرام شربت 50 گرام عرق عشبہ میں میں ملا کر پئیں، پھوڑے پھنسیاں خارش اور عام جلدی امراض کے لئے مفید ہے۔
حیاتی مرہم
کافور 10 گرام، موم سفید 50 گرام، سفیدہ کا شغری 100 گرام، تلوں کا تیل 100 گرام، پہلے تلوں کے تیل کو گرم کریں اور قدرے ٹھنڈا ہونے پر سفیدہ کا شغری ملا دیں، پھر کافور ملا کر مرہم بنالیں، یہ مرہم ہر طرح کی چھوٹی چھوٹی پھنسیوں اور زخموں کیلئے مفید ہے۔٭



