
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعویٰ: غزہ جنگ کے دوران بھی بھارت اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی پرزے فراہم کرتا رہا
غزہ جنگ کے دوران بھارت سے اسرائیل کو فوجی سامان کی ترسیل کا الزام، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ جاری کر دی
لندن ، 31 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی بھارت سے اسرائیل کو فوجی سامان، اسلحہ سے متعلق پرزے اور دفاعی آلات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی گئی ہزاروں فوجی کھیپوں کا تجزیہ کیا ہے۔
"دی سپلائی آف ویپنز اینڈ ایمونیشن ٹو اسرائیل” کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران بھارت سے مجموعی طور پر 2,596 فوجی نوعیت کی کھیپیں اسرائیل بھیجی گئیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کھیپوں میں 3 لاکھ 90 ہزار 516 چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، 5 لاکھ 64 ہزار 970 دھماکا خیز اسلحہ کے اجزا، جن میں ڈرون وارہیڈز اور توپ خانے کے گولوں کے خول شامل ہیں، جبکہ 298 فوجی گاڑیوں کے پرزے بھی اسرائیلی دفاعی صنعت کو فراہم کیے گئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ معلومات بین الاقوامی تجارتی ریکارڈ اور ہارمونائزڈ سسٹم (HS) کوڈز کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، جو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی گاڑیوں سے متعلق اشیا کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان تمام کھیپوں کو رپورٹ میں شامل کیا گیا جن کا تعلق فوجی استعمال سے تھا، جبکہ ممکنہ طور پر شہری استعمال کی اشیا کو خارج رکھا گیا۔
رپورٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارتی کمپنیوں نے اسرائیل کی معروف دفاعی کمپنیوں رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز، آئی ایم آئی سسٹمز لمیٹڈ اور ایم سی ٹی میٹریلز کو مختلف دفاعی پرزے فراہم کیے، جو اسرائیلی فوج کے لیے سازوسامان تیار کرتی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کی جانب سے 2024 میں جاری کیے گئے عبوری احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ملک کو یہ خدشہ ہو کہ اسلحے کی فراہمی سے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں مدد مل سکتی ہے تو ایسی منتقلی روکنے کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔
تنظیم نے ایک بار پھر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا، تاہم اسرائیل مسلسل اس الزام کو مسترد کرتا آیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ تنازع کے باوجود بھارت نے اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ تعاون جاری رکھا اور اسلحہ کی برآمدات کو بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق محدود نہیں کیا۔
دوسری جانب بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات کئی برسوں سے مضبوط ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2025 کے درمیان اسرائیل کی دفاعی برآمدات کا 29 فیصد حصہ بھارت نے خریدا، جس کے باعث بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا دفاعی خریدار رہا۔ اسی عرصے میں اسرائیل بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بھی رہا، جس کا حصہ تقریباً 15 فیصد تھا۔
دونوں ممالک نے 4 نومبر 2025 کو دفاعی تعاون سے متعلق ایک نئی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد فوجی، صنعتی اور تکنیکی اشتراک کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کے بعد غزہ جنگ کے تناظر میں عالمی سطح پر اسلحہ کی تجارت اور دفاعی برآمدات پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تاہم رپورٹ جاری ہونے تک بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔



