قومی خبریں

امریکہ-ایران جنگ بندی کے بعد مرکزی حکومت ایکشن میں، ایل پی جی سپلائی کا نیا فارمولہ نافذ

نئی پالیسی کے ذریعے ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم اور گیس پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے پیش رفت

نئی دہلی 08 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے فوراً بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ایل پی جی سپلائی کے نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی دستیابی کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے نئی تقسیمی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد وسائل کا بہتر استعمال اور ضروری شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کرنا ہے۔

حکومت کے نئے فارمولے کے تحت ریاستوں کو نان ڈومیسٹک پیکڈ ایل پی جی کا 70 فیصد حصہ پہلے ہی مختص کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاستیں جو پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) انفراسٹرکچر کو فروغ دیں گی، انہیں مزید 10 فیصد اضافی کوٹہ دیا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے حکومت ریاستوں کو گیس نیٹ ورک کی توسیع کی جانب راغب کرنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں ایل پی جی پر انحصار کم کیا جا سکے۔

صنعتی شعبے کے لیے بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مارچ 2026 سے پہلے کے استعمال کی بنیاد پر صنعتوں کو صرف 70 فیصد ایل پی جی سپلائی فراہم کی جائے گی۔ اس فیصلے کا اطلاق فارماسیوٹیکل، فوڈ پروسیسنگ، پلاسٹک، زراعت، پیکجنگ، پینٹس، دھات، سیرامکس، شیشہ اور اسٹیل سمیت متعدد شعبوں پر ہوگا۔ حکومت کا مقصد صنعتوں کو صاف اور ماحول دوست متبادل جیسے نیچرل گیس کی طرف منتقل کرنا ہے۔

 صنعتی شعبے کے لیے روزانہ سپلائی کی حد 0.2 ٹی ایم ٹی مقرر کی گئی ہے۔ اس محدود سپلائی میں ان یونٹس کو ترجیح دی جائے گی جہاں تکنیکی وجوہات کی بنا پر ایل پی جی کا متبادل ممکن نہیں۔ حکومت نے صنعتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ رجسٹریشن کروائیں اور سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دیں۔ تاہم وہ صنعتیں جہاں ایل پی جی ناگزیر ہے، انہیں اس شرط سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ریاستی حکومتوں کے لیے بھی تین اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ نیچرل گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم سے متعلق 2026 کے حکم نامے کو تمام متعلقہ محکموں میں نافذ کیا جائے۔ دوسری یہ کہ اضافی 10 فیصد اصلاحاتی کوٹے سے فوری فائدہ اٹھایا جائے۔ تیسری ہدایت کے تحت ریاستوں کو کمپریسڈ بایو گیس پالیسی جلد از جلد نافذ کرنے کو کہا گیا ہے۔

یہ نئی پالیسی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت ایل پی جی کے استعمال کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو گیس پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے لے جانا چاہتی ہے، تاکہ توانائی کے شعبے میں استحکام اور خود کفالت حاصل کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button