قومی خبریں

ایل پی جی بحران کے پیش نظر حکومت کی انڈکشن اسٹو پر توجہ، پیداوار بڑھانے کی تیاری

ایل پی جی بحران نے حکومت کو متبادل توانائی ذرائع اپنانے پر مجبور کر دیا

نئی دہلی 04 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کے بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے اثرات بھارت میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ملک اس وقت ایل پی جی کی ممکنہ کمی کے خدشے سے دوچار ہے، جس کے پیش نظر مرکزی حکومت متبادل توانائی ذرائع کی جانب سنجیدگی سے توجہ دے رہی ہے۔

حکومت نے خاص طور پر انڈکشن اسٹو کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی پیداوار بڑھانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں صنعت اور اندرونی تجارت کے فروغ کے محکمے، وزارت بجلی اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی پیداوار میں اضافہ اور سپلائی چین کو مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔

وزارت بجلی کے تحت کام کرنے والی سرکاری کمپنی انرجی ایفیشنسی سروسز لمیٹڈ (EESL) نے بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے تین سال قبل "گو الیکٹرک” اسکیم کے تحت سستے انڈکشن اسٹو فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا، اور اب دوبارہ تقریباً پانچ لاکھ انڈکشن اسٹو کی خریداری کی تیاری کر رہی ہے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔

مارکیٹ میں انڈکشن اسٹو کی قیمت عام طور پر دو ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے، تاہم ایل پی جی کی ممکنہ قلت کے باعث ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف انڈکشن اسٹو سستا کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ بجلی کے نرخوں میں کمی اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا بھی ضروری ہوگا۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً 33 کروڑ ایل پی جی کنکشن موجود ہیں اور ایک بڑی آبادی کھانا پکانے کے لیے اسی پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عوام پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ادھر انڈین آئل کارپوریشن نے وضاحت کی ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 28 لاکھ ایل پی جی سلنڈر فراہم کر رہی ہے اور موجودہ صورتحال میں سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔

مزید یہ کہ ایل پی جی کی تقریباً 87 فیصد بکنگ اب ڈیجیٹل ذرائع جیسے ایس ایم ایس اور آئی وی آر ایس کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ ترسیل کی تصدیق او ٹی پی کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button