
ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، تہران کی نئی دھمکی
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی,آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز
واشنگٹن، 21 جولائی (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق یہ کارروائیاں امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دسویں رات کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین میں دو مختلف فوجی مقامات پر فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات جبکہ کویت میں میزائل دفاعی نظام، ریڈار اور سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ "اس ریڈار سویپ کے بعد دشمن کو مزید فیصلہ کن اور طاقتور ڈرون و میزائل حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے کیے۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی آبنائے ہرمز میں حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، ایک مرتبہ پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی تصادم کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور بحری تجارت پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران سے منسلک حملوں میں کویت، اردن اور بحرین میں ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی فوجیوں کی مجموعی ہلاکتیں 17 ہو گئی ہیں۔ اس حملہ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا: "ہر بار جب ایران کسی امریکی فوجی کو قتل کرے گا، اسے اس کی کئی گنا بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔”
شدید فوجی کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور اس کے بعد امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ معاہدہ ختم ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔



