بین الاقوامی خبریں

جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ایران کے لاون جزیرے کی آئل ریفائنری پر حملہ

ایران کے اہم تیل مرکز پر بڑا حملہ

تہران 08 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے اہم تیل بردار جزیرے لاون پر واقع آئل ریفائنری پر بدھ کی صبح ایک بڑا حملہ کیا گیا، جو امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ مشروط جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد پیش آیا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10 بجے ہوا، جس کے بعد جائے وقوعہ پر آگ بھڑک اٹھی اور فائر فائٹرز کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔

ایرانی حکام نے اس واقعہ کو “دشمن کا حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی کے باوجود کی گئی۔ تاہم اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران نے مبینہ طور پر کویت اور متحدہ عرب امارات پر بھی جوابی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں خلیج فارس میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

لاون جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تقریباً 78 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ جزیرہ ملک کے بڑے خام تیل برآمدی مراکز میں شامل ہے، جہاں بھاری مقدار میں تیل کی ریفائننگ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گیس فیلڈ بھی موجود ہے اور یہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 450 سے 500 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 40 دنوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے حملوں سے گریز کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر حالیہ پیش رفت نے اس جنگ بندی کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں ایک بیان میں جنگ بندی کو “نازک” قرار دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھیں گے تاکہ تنازع کا پرامن حل ممکن ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق لاون جزیرے پر حملہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ اس سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button