بین الاقوامی خبریں

ایران جنگ کے اثرات، امریکہ میں مہنگائی میں اضافہ

تیل مہنگا، امریکہ میں مہنگائی بڑھی

نیویارک 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب عالمی سطح پر نمایاں ہو رہے ہیں، اور خود امریکہ بھی اس بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ایک ڈالر سے زیادہ اضافہ ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی بڑھ کر 5.53 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کا براہ راست اثر روزمرہ استعمال کی اشیاء پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ای کامرس، ایئر لائنز اور دیگر خدمات بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

امریکی ای کامرس کمپنی ایمیزون نے اعلان کیا ہے کہ وہ 17 اپریل سے تھرڈ پارٹی سیلرز پر 3.5 فیصد فیول سرچارج عائد کرے گی، جبکہ کچھ ایئر لائنز نے چیک اِن بیگج فیس میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

ادھر یو ایس پوسٹل سروس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ایکسپریس میل اور دیگر خدمات پر عارضی طور پر 8 فیصد فیول سرچارج عائد کر سکتی ہے۔ اگر منظوری مل گئی تو یہ اضافہ 26 اپریل سے نافذ ہوگا اور جنوری 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکہ کی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ تیل کی عالمی منڈی آپس میں جڑی ہوئی ہے، اس لیے امریکہ اس کے اثرات سے بچ نہیں سکتا۔

 آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات ایشیا اور یورپ تک پہنچ رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے اور صارفین کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button