قومی خبریں

اسرائیلی سفیر کا پاکستان کی ثالثی پر عدم اعتماد، امریکہ کے فیصلے پر اعتراض

"ہم پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث نہیں سمجھتے" — اسرائیلی سفیر

نئی دہلی 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مشرق وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ ثالثی کی خبروں پر اسرائیل نے کھل کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر نہیں دیکھتا۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ نے اپنی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کو اس عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریوین آزر نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پہلے بھی حساس معاملات میں قطر اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ کام کر چکا ہے، جنہیں اسرائیل مسئلہ ساز تصور کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھے، خاص طور پر ان مقاصد کے حوالے سے جو خطے میں استحکام کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے ہندوستان کے مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کا مطالبہ ایک درست اور متوازن موقف ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ذمہ دار ملک ایران کے ان مطالبات کو قبول نہیں کرے گا جن کے تحت اس اہم سمندری راستے پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جلد پاکستان کے دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے تاکہ مستقل معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ان مذاکرات کا اصل ہدف ایران کے ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا ہے، جنہیں اسرائیل اپنے لیے وجودی خطرہ قرار دیتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کے اپنے مقصد میں پیش رفت حاصل کی ہے اور اب ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا موقع ملنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button