طیب ایردوآن خم ٹھونک کر حماس کے ساتھ کھڑے ہوگئے؟
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک آزادی کی جدوجہد کرنے والی جماعت ہے
انقرہ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے حماس کے بارے میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے موقف کے برعکس کھلے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہفلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک آزادی کی جدوجہد کرنے والی جماعت ہے۔صدر ایردوآن کا اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تصادم اور اس سلسلے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور بعض دوسرے ملکوں کے کھل کر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوجانے کے علاوہ اسے ہر طرح کی مدد دینے کے اقدامات کے بعد پہلا مضبوط ترین بیان سامنے آیا ہے۔
طیب ایردوآن اپنی اے کے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر غزہ پر بمباری روکنے اور فوری طور فلسطین فورسز اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔صدر ترکیہ نے اس حوالے سے مسلم ممالک کو متوجہ کرتے ہوئے کہا لازماً مسلم ممالک کو مل کر کوششیں کرنی ہیں تاکہ امن کو بچایا جا سکے اور خطے میں امن کی پائیداری ممکن ہو سکے۔
حماس کے بارے میں انہوں نے اب کے کسی بھی مسلم ملک کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور بے دھڑک موقف کا اظہار کیا اور کہا ‘حماس ہر گز دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔’یہ ایک حریت پسند مجاہدین کا گروپ ہے۔ جس نے اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے ‘طیب ایردوآن نے مغربی طاقتوں کی مذمت کی کہ ‘وہ اسرائیل کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جوابی کارروائی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے اسرائیل کے لیے آنسو محض دھوکہ دہی ہیں
دوسری جانب نیٹو کے کئی ارکان اور طیب ایردوآن کے حماس اور اسرائیل کے بارے میں خیالات میں فرق پایا جاتا ہے۔ اٹلی کے نائب وزیر اعظم میٹیو سالوینی نے ترک صدر کے ان خیالات پر سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا ‘ یہ سنگین اور مکروہ ہیں اور کشیدگی کم کرنے میں مدد نہیں کرتے۔’ میں اپنے رفیق کار وزیر خارجہ سے کہوں گا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک باقاعدہ درخواست کریں کہ ترکہ کے سفیر کو بلا کر جواب طلبی کریں۔
ترک صدر اردگان نے اسرائیل کا دورہ منسوخ کر دیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اس کی "غیر انسانی” جنگ کی وجہ سے اسرائیل کا دورہ کرنے کا منصوبہ منسوخ کر رہے ہیں ۔اردگان نے پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے قانون سازوں کو بتایا، "ہمارے پاس اسرائیل جانے کا ایک منصوبہ تھا، لیکن اسے منسوخ کر دیا گیا، ہم نہیں جائیں گے،” اردگان نے پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت کے قانون سازوں کو بتایا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حماس کو اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے "آزادی” کے طور پر دیکھتے ہیں۔انقرہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات غزہ میں امداد لے جانے والے ایک ترک بحری جہاز پر اسرائیلی حملے کے بعد منجمد ہو گئے تھے، جس میں 2010 میں 10 شہری مارے گئے تھے۔
اردگان نے گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی، جس سے تعلقات میں بہتری کی نشاندہی کی گئی تھی جو گزشتہ سال سفیروں کی دوبارہ تعیناتی کے فیصلے سے شروع ہوئی تھی۔ترک رہنما نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اسرائیل کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، جہاں انقرہ کی نظریں امریکہ کے ذریعے پروموٹ کیے جانے والے قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے میں شامل ہونے پر تھیں۔اردگان نے کہا، "یقیناً، ہمارے اچھے ارادے تھے، لیکن (نیتن یاہو) نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔”اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ جاری رکھتے تو ہمارے تعلقات مختلف ہوتے لیکن اب بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ۔



