لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت، جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بمباری جاری
جنگ بندی کے دعوے کے باوجود لبنان میں آگ اور بارود کا سلسلہ تھم نہ سکا
بیروت 08 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)لبنان میں بدھ کے روز ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا، جب اسرائیلی فضائیہ نے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ تازہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب اسرائیلی قیادت کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق بیانات سامنے آئے تھے، تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق صبح سویرے ایک اسرائیلی ڈرون نے راس العین السماعیہ کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں فضائی اور زمینی حملے کیے گئے، جن میں دبین، جزین کے ریحان، الحنیہ اور المنصوری شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جل البحر کے علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جو ایک طبی مرکز کے قریب واقع تھی۔ اس حملے میں کم از کم چار شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ طبی مراکز کے قریب حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیے جاتے ہیں۔
اسی دوران قصبہ شقرا میں طبی عملے کی ایک چوکی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی طبی کارکن زخمی ہوئے۔ دیگر متاثرہ علاقوں میں حداثا، رب ثلاثین، العباسیہ، کفرا اور الجمیجمہ شامل ہیں۔ قانا میں ایک ڈرون حملے میں ایک موٹر سائیکل سوار بھی زخمی ہوا۔
سیاسی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک جانب امریکی فیصلے کی حمایت کی، جس کے تحت ایران پر حملے عارضی طور پر مؤخر کیے گئے ہیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی جنگ بندی میں لبنان کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں جاری حملوں کے نتیجے میں اب تک 1530 افراد جاں بحق جبکہ 4812 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازعہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور جنگ بندی کو عملی شکل دلائیں۔



