
جادھوپور یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں میں تصادم، کئی طلبہ زخمی، کیمپس میں کشیدگی برقرار
ایس ایف آئی اور اے بی وی پی سے وابستہ گروپوں کے درمیان جھڑپ-
کولکاتا، 20 اگست 2026، اردو دنیا نیوز/ایجنسیزکولکاتا کی جادھوپور یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان تنازع نے جمعرات کی صبح کشیدگی کی صورت اختیار کرلی، جہاں ایس ایف آئی اور اے بی وی پی سے وابستہ گروپوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوگئے۔ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا، جس کے بعد زخمی طلبہ میں سے کچھ کو علاج کے لیے قریبی کے پی سی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تنازع فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اسٹوڈنٹس یونین (FETSU) کے جنرل باڈی اجلاس کے معاملے پر شروع ہوا۔ دونوں طلبہ تنظیموں نے ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ایس ایف آئی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں نئی ریاستی حکومت کے قیام کے بعد سے اے بی وی پی جادھوپور یونیورسٹی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ باہر سے لوگوں کو کیمپس میں لایا گیا اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
دوسری جانب اے بی وی پی نے الزام عائد کیا کہ ایس ایف آئی نے سوشلسٹ یونٹی سینٹر آف انڈیا (کمیونسٹ) سے وابستہ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (DSO) کے کارکنوں کے ساتھ مل کر جنرل باڈی اجلاس کی آڑ میں اس کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا۔
تصادم میں زخمی ہونے والے بعض طلبہ کو کے پی سی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جادھوپور اسمبلی حلقے کی بی جے پی رکن اسمبلی سربوری مکھرجی، جو اداکاری سے سیاست میں آئی ہیں، جمعرات کی صبح ہسپتال پہنچیں اور زیر علاج طلبہ کی عیادت کی۔
واقعے کے سلسلے میں دونوں حریف طلبہ تنظیموں نے جادھوپور پولیس اسٹیشن میں الگ الگ ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔ دونوں گروپوں نے جمعرات کو یونیورسٹی کیمپس میں بڑے احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے باعث انتظامیہ کے لیے صورتحال پر قابو رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔
رپورٹ درج کیے جانے تک پولیس نے اس معاملے میں کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی تھی۔ اے بی وی پی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن شوبھبرت ادھیکاری نے الزام لگایا کہ اس کے عہدیداروں پر حملے میں صرف ایس ایف آئی کارکن ہی نہیں بلکہ دیگر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔ انہوں نے بعض افراد کے مبینہ روابط بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں سے ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
ایس ایف آئی کے جنرل سیکریٹری سریجن بھٹاچاریہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پورے معاملے میں ایس ایف آئی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہیں جو اطلاعات ملی ہیں، ان کے تحت اے بی وی پی کارکنوں نے مقامی بی جے پی سے وابستہ افراد کی مدد سے کیمپس میں توڑ پھوڑ کی۔
بھٹاچاریہ نے سوال اٹھایا کہ اگر اے بی وی پی طلبہ برادری میں حقیقی حمایت رکھتی ہے تو وہ انتخابات کا سامنا کرکے جمہوری طریقے سے طلبہ تنظیم پر کنٹرول حاصل کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی میں دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور مزید احتجاج کے اعلان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔



