'میری پاکستان میں شادی کروا دو' — جیوتی ملہوترا اور پاکستانی ایجنٹ کی مبینہ چیٹ لیک
"Travel with Jo" کے نام سے یوٹیوب پر اپنے ٹریول ویڈیوز کے لیے مشہور ہیں
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یوٹیوبر جیوتی ملہوترا کے خلاف جاسوسی کے سنگین الزامات کے بعد پولیس نے بدھ کے روز ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، جیوتی ملہوترا پاکستانی سفارتخانے کے اہلکاروں سے رابطے میں تھیں، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہو۔
جیوتی ملہوترا، جو "Travel with Jo” کے نام سے یوٹیوب پر اپنے ٹریول ویڈیوز کے لیے مشہور ہیں، کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی انٹیلیجنس آفیسر احسان الرحیم عرف دانش کے رابطے میں تھیں اور مبینہ طور پر اس کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ بھی کیا۔
کیا جیوتی ملہوترا پاکستان میں شادی کرنا چاہتی تھیں؟
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ایک واٹس ایپ چیٹ میں جیوتی نے دانش سے کہا: "مجھے پاکستان میں شادی کرا دو”۔ اس بیان پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
تاہم، ضلع حصار کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے وضاحت کی ہے کہ "ہمیں کوئی ایسا دستاویزی ثبوت نہیں ملا جو یہ ظاہر کرے کہ وہ کسی پاکستانی شہری سے شادی کرنا چاہتی تھیں یا مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔”
پاکستانی انٹیلیجنس کا کردار
پولیس کے مطابق، دانش نے جیوتی کو ایک اور پاکستانی شہری علی احوان سے ملوایا، جس نے نہ صرف اس کے قیام کا بندوبست کیا بلکہ پاکستانی اہلکار شاکر اور رانا شہباز سے بھی اس کا رابطہ کروایا۔ پولیس ترجمان نے کہا: "دانش اسے بطور ایجنٹ تیار کر رہا تھا، اور وہ دیگر یوٹیوبرز کے ساتھ بھی رابطے میں تھی۔”
قانونی کارروائی
33 سالہ جیوتی ملہوترا، جو انسٹاگرام پر ایک لاکھ سے زائد فالوورز اور یوٹیوب پر 3.87 لاکھ سبسکرائبرز رکھتی ہیں، نے مبینہ طور پر دو بار پاکستان کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے دوران وہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک افسر سے بھی ملی تھیں۔ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (NIA) اور انٹیلیجنس بیورو (IB) نے ان سے پوچھ گچھ کی۔
ان پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی دفعات 3 اور 5 اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
جیوتی ان 12 افراد میں شامل ہیں جنہیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ کیس پاکستان سے منسلک ایک بڑے جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتا ہے۔



