سرورققومی خبریں

کپل سبل کا SIR پر اعتراض، ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری اور مسلمانوں کے نام حذف کرنے کا الزام، سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش کا الزام

نئی دہلی، 2 ستمبر (اردودنیا نیوز/ایجنسیز): راجیہ سبھا رکن اور معروف وکیل کپل سبل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ مشق ووٹر فہرست میں ہیرا پھیری اور بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے گوڈا میں مسلمانوں سمیت بعض ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

کپل سبل نے بدھ کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں جھارکھنڈ کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی سے وابستہ افراد مسلمانوں کو نشانہ بنا کر بڑی تعداد میں ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات لوگوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کے مترادف ہیں اور سپریم کورٹ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔

سبل کے یہ الزامات جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بعض بوتھوں پر بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹس نے فارم-7 کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کی۔ ان درخواستوں میں درج بیشتر نام اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے تھے، جبکہ بوتھ لیول افسران نے کئی درخواستوں پر اعتراض کیا۔

رپورٹ کے مطابق، گوڈا کے بعض بوتھوں پر بڑی تعداد میں فارم-7 جمع کرائے گئے۔ ایک بوتھ پر 25 ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواستیں سامنے آئیں، جبکہ دوسرے بوتھ پر اس سے بھی زیادہ فارم لائے گئے۔ بوتھ لیول افسران نے بعض درخواستوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جن ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی، وہ طویل عرصے سے انہی علاقوں میں رہ رہے تھے اور ان میں سے کئی کے نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں بھی درج تھے۔

پی ٹی آئی سے گفتگو میں کپل سبل نے فارم-7 کے بڑے پیمانے پر استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا رکن یا کارکن محض یہ دعویٰ کرکے کسی ووٹر کا نام حذف نہیں کرا سکتا کہ وہ متعلقہ علاقے میں نہیں رہتا۔ ان کے مطابق، بڑی تعداد میں فارم-7 جمع کرائے گئے، تاہم بوتھ لیول افسران نے بعض درخواستوں کی مخالفت کی کیونکہ ان دعوؤں کے حق میں ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے۔

سبل نے دعویٰ کیا کہ معاملے کی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جن علاقوں میں فارم-7 جمع کرائے جا رہے تھے، وہاں مسلمانوں کو مبینہ طور پر زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ایسے افراد کے نام بھی حذف کرانے کی کوشش کی گئی جو طویل عرصے سے، بلکہ بعض صورتوں میں نسلوں سے، انہی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

راجیہ سبھا رکن نے جھارکھنڈ کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اپوزیشن کی حکومت ہونے کی وجہ سے بوتھ لیول افسران نے اعتراضات اٹھائے، لیکن جن ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے وہاں ایسے معاملات پر سوال کون اٹھائے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر SIR کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کا عمل اسی انداز میں جاری رہا تو اس کے اثرات انتخابی عمل پر پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب جھارکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق، فارم-7 کے ذریعے بڑی تعداد میں اعتراضات یا نام حذف کرنے کی درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں، لیکن ہر درخواست کی جانچ ضروری ہے۔ گوڈا کے معاملے میں انتظامیہ نے بھی جانچ کا حکم دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی حقیقی ووٹر کا نام مناسب تصدیق کے بغیر حذف نہیں کیا جا سکتا۔

کپل سبل کے بیان سے ایک روز قبل کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور سابق پارٹی صدر راہل گاندھی نے بھی الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ کی نظرثانی پر تنقید کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے کمیشن کے لیے ’’بی جے پی کرسی بچاؤ آیوگ‘‘ اور ’’ووٹ چوری آیوگ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے ذریعے بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

راہل گاندھی نے مہاراشٹر کی مسودہ ووٹر لسٹ سے SIR کے بعد 2.06 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اپنی انتخابی کامیابی یقینی بنانے کے لیے ووٹر لسٹ سے متعلق اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور قابل اعتماد بنانا ہے۔ کمیشن کے مطابق نظرثانی کے دوران ووٹروں کی تفصیلات کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ اہل افراد کے نام فہرست میں برقرار رہیں اور غیر موجود یا غلط اندراجات کو دور کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button