
حیدرآباد میں سیکیورٹی گارڈ کی شرمناک حرکت، آوارہ کتے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا الزام
سکیورٹی گارڈ کے خلاف شکایت درج
حیدرآباد، 24 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) کومپلی میں ایک آوارہ کتے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد جانوروں کے تحفظ سے وابستہ حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ میڈچل ملکاجگیری ضلع کے سائی نگر میں واقع ایک لگژری اپارٹمنٹ کمپلیکس میں پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں ایک سکیورٹی گارڈ کے خلاف پولیس سے شکایت کی گئی ہے۔ شکایت درج کرانے والی جانوروں کے حقوق کی تنظیم نے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کو دی گئی شکایت کے مطابق، اپارٹمنٹ میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے والے 50 سالہ سنجے تیواری پر الزام ہے کہ انہوں نے رواں ماہ کی 8 تاریخ کو احاطے میں گھومنے والی ایک مادہ کتے کو شال میں لپیٹ کر اپنے سکیورٹی کیبن میں لے گئے۔ بعد ازاں ان پر کتے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ تاہم، یہ الزامات ہیں اور واقعے کی اصل صورت حال کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔
اس معاملے کی اطلاع ملنے پر اسٹری اینیمل فاؤنڈیشن آف انڈیا کے نمائندوں نے معلومات جمع کیں اور پٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ تنظیم کی جانب سے جانور کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام سے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے اس کیس میں مزید کارروائی اور تحقیقات کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
واقعے کے بعد جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے رہائشی علاقوں اور اپارٹمنٹ کمپلیکس میں گھومنے والے آوارہ جانوروں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے زبان جانور اپنی تکلیف بیان نہیں کرسکتے، اس لیے ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی یا تشدد کی شکایات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات میں شکایت کی غیر جانب دارانہ جانچ اور حقائق کی بنیاد پر کارروائی ضروری ہے۔
جانوروں کے تحفظ کا معاملہ شہری معاشرے میں ایک اہم سماجی ذمہ داری کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ کومپلی کے اس واقعے میں بھی ضروری ہے کہ پولیس تمام متعلقہ شواہد کی جانچ کرے اور الزامات کی تصدیق کے بعد قانون کے مطابق اقدامات کرے۔ فی الحال معاملے سے متعلق مزید تفصیلات اور پولیس کی حتمی کارروائی کا انتظار ہے۔



