
نفرت انگیز تقریر کیس میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری
سمن کی مسلسل خلاف ورزی، مہوا موئترا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری
کلیانی، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) مغربی بنگال کے نادیہ ضلع کی ایک عدالت نے مبینہ نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ کارروائی بار بار سمن جاری کیے جانے کے باوجود ان کے پیش نہ ہونے پر کی۔
کرشن نگر کی تیسری جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے وارنٹ پر عمل درآمد کی رپورٹ 28 اگست کو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ معاملہ خواتین کی توہین اور مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر سے متعلق شکایت پر درج کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق مہوا موئترا کو متعدد مرتبہ پیشی کے لیے سمن جاری کیے گئے، تاہم وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئیں۔ منگل کو بھی جج نے انہیں بدھ کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی تھی، لیکن بدھ کو بھی ان کی غیر موجودگی پر عدالت نے سخت موقف اختیار کیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عدالتی احکامات کی مسلسل عدم تعمیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمہ عدالت کے حکم کی تعمیل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے کہا کہ گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔
مہوا موئترا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گی۔ وکیل نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر وہ عدالت کے احاطے میں آتی ہیں تو وہاں ان کے ساتھ ہنگامہ یا بدسلوکی کا امکان ہے۔ عدالت نے تاہم ان کی مسلسل عدم حاضری پر سخت تبصرہ کیا۔
کس معاملے میں کارروائی ہوئی؟
پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق مہوا موئترا کے خلاف شکایت میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 79، 196، 299، 351 اور 353(2) شامل ہیں۔ ان دفعات کے تحت خواتین کی توہین، مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات مجروح کرنے، مجرمانہ دھمکی اور نفرت انگیز تقریر جیسے الزامات سے متعلق کارروائی کی گئی ہے۔
یہ معاملہ اگست 2025 میں نادیہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مہوا موئترا کے مبینہ تبصروں سے متعلق ہے۔ وہ اس موقع پر بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر دراندازی کے معاملے پر گفتگو کر رہی تھیں۔
عدالت نے اب گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کی رپورٹ 28 اگست کو طلب کی ہے، جس کے بعد معاملے میں مزید کارروائی کی سمت واضح ہوگی۔



