بین الاقوامی خبریںسرورق

مائیکروسافٹ میں 5,500 سے زائد ملازمین کی نوکریاں خطرے میں، نئی چھانٹیوں کا امکان

مائیکروسافٹ کی جانب سے ہزاروں ملازمین کی ممکنہ چھانٹیوں اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری

ریڈمنڈ /واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ آئندہ ہفتے ملازمین کی ایک نئی بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا اعلان کر سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کی ممکنہ چھانٹیوں سے دنیا بھر میں 5,500 سے زائد ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ممکنہ برطرفیاں مائیکروسافٹ کی مجموعی عالمی افرادی قوت کے 2.5 فیصد سے کم ہوں گی۔ مجوزہ چھانٹیوں سے سیلز، کنسلٹنگ اور ایکس باکس گیمنگ ڈویژن سمیت کئی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2025 تک مائیکروسافٹ کے دنیا بھر میں تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار مستقل ملازمین تھے۔ اگر کمپنی 2.5 فیصد سے کم ملازمین کو فارغ کرتی ہے تو متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 5,700 سے کم رہنے کا امکان ہے۔

اگرچہ مائیکروسافٹ نے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے کاروباری ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے، آپریشنل اخراجات کم کرنے اور وسائل کی نئی ترجیحات کے مطابق تنظیمِ نو پر غور کر رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ کمپنی اپنی اے آئی مصنوعات کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں نئے ڈیٹا سینٹرز بھی قائم کر رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں روایتی کاروباری شعبوں سے وسائل منتقل کرکے مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور کلاؤڈ انفرا اسٹرکچر پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض شعبوں میں ملازمین کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ مائیکروسافٹ کے گیمنگ یونٹ ایکس باکس میں بھی مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کمپنی نے حالیہ مہینوں میں ایکس باکس کنسولز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا، جس سے اس شعبے میں نئی حکمت عملی کے اشارے ملتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مائیکروسافٹ ملازمین کی تعداد کم کرنے پر غور کر رہی ہو۔ اس سے قبل بھی کمپنی کئی بار افرادی قوت میں کمی کے اقدامات کر چکی ہے اور گزشتہ برس بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button