مودی نے امیروں کا 16 لاکھ کروڑ قرض معاف کر کے غریبوں کا حق مارا: راہل
ذات پر مبنی مردم شماری کی تجویز نے مخالفین کی نیند اڑا دی ہے : راہل گاندھی
نئی دہلی، 24اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پی ایم مودی پر راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صنعت کاروں کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کر کے غریبوں کا حق چھینا ہے آج یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ پی ایم نے اپنے ارب پتی دوستوں کے 1,60,00,00,00,00,000 روپے یعنی 16 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا ہے انہوں نے کہا کہ اتنی رقم کا قرض معاف کر کے پی ایم مودی نے ملک کے کروڑوں غریبوں کا حق چھین لیاہے۔انہوں نے کہا کہ اتنی رقم سے 16 کروڑ نوجوانوں کو سالانہ ایک لاکھ روپے کی نوکری مل سکتی تھی، 16 کروڑ خواتین کو سالانہ ایک لاکھ روپے دے کر ان کے خاندانوں کی زندگیاں بدلی جا سکتی تھیں اور 10 کروڑ کسان خاندانوں کے قرضے معاف کر کے بے شمار خودکشیوں کو روکا جا سکتا تھا۔
گاندھی نے کہا کہ اس رقم سے پورے ملک کو 20 سال کے لیے صرف 400 روپے میں گیس سلنڈر دیا جا سکتا تھا اور تین سال تک ہندوستانی فوج کے پورے اخراجات برداشت کیے جا سکتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلی اور پسماندہ سماج ہر نوجوان کی گریجویشن تک کی تعلیم مفت ہو سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ جو پیسہ ’ہندوستانیوں‘ کے درد کی دوا بن سکتا تھا، اسے ’اڈانیوں‘ کی ہوا بنانے میں خرچ کردیا گیا، اس جرم کے لیے ملک نریندر مودی کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اب ہاتھ بدلے گا حالات، کانگریس ہر ہندوستانی کی ترقی کے لئے حکومت چلائے گی۔
جواہر بھون میں سماجی انصاف کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہ کہ جب سے میں نے ذات پر مبنی مردم شماری کا آئیڈیا پیش کیا ہے، تمام نام نہاد محب وطن خوفزدہ ہیں۔ یہ مردم شماری میرے لیے سیاست نہیں ہے بلکہ یہ میری زندگی کا مشن ہے۔ جیسے ہی کانگریس کی حکومت مرکز میں اقتدار میں آئے گی، ہم اسے فوری طور پر انجام دیں گے اور یہ میری گارنٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے حقوق نہیں مل رہے ہیں۔
میڈیا کے انتظامی سطح پر یا نجی اسپتالوں اور بڑی کمپنیوں اور یہاں تک کہ عدلیہ میں بھی دلتوں، قبائلیوں یا او بی سی کی شاید ہی کوئی موجودگی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ مجھے ذات سے نہیں بلکہ انصاف میں دلچسپی ہے۔ ہندوستان میں 90 فیصد لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کتنی ناانصافی ہو رہی ہے اور یہ ذات پر مبنی مردم شماری سے ہی ممکن ہے۔
راہل گاندھی نے سوالیہ لہجے میں پوچھا کہ اگر آپ زخمی ہیں تو کیا آپ کو ایکسرے کی ضرورت نہیں ہے؟ مردم شماری کا وہی ایکسرے ہوگا۔ جیسے ہی میں نے ایکسرے کا لفظ استعمال کیا، وزیر اعظم اور میڈیا کے ایک مخصوص حصے نے مجھ پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگانا شروع کر دیا۔ انہوں نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس کے توسط سے بی جے پی نے یہ بتایا کہ وہ سنجیدہ نہیں ہیں اور سیاست میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا منریگا، حصول اراضی بل یا سماجی انصاف جیسے مسائل سنجیدگی سے بالاتر ہیں؟کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم پر اپنے 25 ارب پتی دوستوں کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے قرض معاف کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسی رقم کا استعمال ملک کے غریب کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے اور ان کی زندگی ختم ہونے سے بچانے کے لیے کیا جا سکتا تھا۔ اپنی پارٹی کے منشور کوانقلابی قرار دیتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم ان کی پارٹی کا منشور دیکھ کر گھبرا گئے ہیں اور منفی ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں اور سستے ریمارکس پاس کر رہے ہیں۔
پی ایم مودی کو پولرائزیشن اور خوف کے فرسودہ اسکرپٹ کا سہارا : کانگریس
نئی دہلی، 24اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کانگریس نے بدھ کو پی ایم مودی پر پولرائزیشن اور خوف کی پرانی اسکرپٹ کا سہارا لینے کا الزام لگایا، اور دعوی کیا کہ انہیں حقیقی مسائل پر لوک سبھا انتخابات لڑنے کے لئے اپنی حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ذات پات کی مردم شماری کے خلاف ہیں یا حمایت میں۔ اس سوال کا جواب ہاں یا نہیں میں دینا پڑے گا۔ آپ عوام کی نمائندگی کیوں نہیں کرنا چاہتے؟’
‘سپریہ شرینیت نے پی ایم مودی کے منگل سوتر کے ریمارکس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ منگل سوتر کی اہمیت کا بھی احترام نہیں کرتے ہیں۔شرینیت نے کہا کہ جب الیکشن آئے تو ہم نے سوچا کہ بڑے ایشوز پر بات ہو گی، بے روزگاری اور مہنگائی پر بات ہو گی، لیکن تمام ایشوز کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا، اس ملک کے وزیر اعظم نے وہی اسکرپٹ اٹھائی جسے وہ 2002 سے پڑھ رہے ہیں، جس میں پولرائزیشن، تقسیم، خوف اور شکوک کاشائبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے وزیر اعظم کو اپنی حکومت اور پارٹی پر اتنا بھروسہ نہیں ہے کہ وہ مسائل پر بات کر کے الیکشن لڑ سکیں۔انہوں نے کہاکہ مودی جی کو کانگریس کے منشور سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کیونکہ آپ کے جھوٹ اور پروپیگنڈے نے کانگریس کے منشور کو ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔
شرینیت نے دعویٰ کیا کہ منشور میں ذات پات کی مردم شماری کے ذکر سے پی ایم مودی کو شدید تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج میں نریندر مودی جی سے پوچھنا چاہتی ہوں،کیا غریبوں کی بات کرنا غلط ہے؟ آپ کو غریبوں کی فلاح و بہبود سے کیا مسئلہ ہے؟ ہم ایکسرے کی بات کر رہے ہیں، اس میں اعتراض کیا ہے؟کانگریس ترجمان نے کہا کہ مودی نے پچھلے 10 سالوں میں دو ہندوستان بنائے ہیں، ایک ہندوستان ہے جہاں سبزی فروش مہنگائی سے روتا ہے اور جی 20 میں غربت چھپانے کے لیے پردہ کھینچ دیا جاتا ہے، دوسرا ہندوستان وہ ہے جہاں گلیمر ہے، جہاں انہوں نے کہا کہ لوگ مودی کے دیوانے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہیں۔



