
سی جے پی احتجاج کے حامی محمد جنید کے اہل خانہ کی رہائی کے بعد بھی پولیس کارروائی پر سوالات برقرار
محمد جنید کی رہائی کے باوجود پولیس کارروائی سے متعلق الزامات اور تنازع برقرار ہے
نئی دہلی، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)دہلی کے جنتر منتر میں Cockroach Janta Party (CJP) کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین میں کھانا اور پینے کا پانی تقسیم کرنے والے سی جے پی کے حامی محمد جنید اور ان کے اہل خانہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ان کے وکیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں کیا، جس میں کہا گیا کہ خاندان کے تمام افراد اب آزاد ہیں۔
محمد جنید نے الزام عائد کیا کہ جمعہ کی شب آر ایم ایل اسپتال سے علاج کروا کر واپس آتے وقت انہیں سادہ لباس میں ملبوس افراد نے روک لیا، جنہوں نے خود کو دہلی پولیس اہلکار بتایا۔ ان کے مطابق انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر رکھا گیا اور موبائل فون بھی لے لیا گیا۔
جنید کا کہنا ہے کہ اگلے روز ان سے جنتر منتر میں احتجاج کرنے والوں کے لیے کھانے اور پانی کے انتظام کے مالی وسائل کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام انتظامات عوامی عطیات اور حامیوں کی جانب سے فراہم کردہ امداد کے ذریعے کیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد ازاں انہیں غازی آباد کے علاقے مسوری لے جا کر چھوڑ دیا گیا، جہاں سے وہ ٹیکسی کے ذریعے دوبارہ دہلی واپس پہنچے۔
محمد جنید نے اتر پردیش پولیس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ غازی آباد میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے والد مصطفیٰ کو حراست میں لیا گیا اور پان کارڈ، آدھار کارڈ اور بینک پاس بکس سمیت کئی اہم دستاویزات ضبط کر لی گئیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس میرٹھ میں ان کی بہن کے گھر پہنچی، جہاں ان کے بہنوئی اور سسر کو بھی حراست میں لینے کی کوشش کی گئی اور اہل خانہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ محمد جنید کو دہلی سے واپس بلائیں۔
تاہم میرٹھ پولیس نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محمد جنید کے کسی بھی اہل خانہ کو حراست میں نہیں لیا گیا۔
دوسری جانب Association for Protection of Civil Rights (APCR) نے محمد جنید اور ان کے خاندان کی قانونی معاونت کا اعلان کیا۔ تنظیم کے مطابق غازی آباد اور میرٹھ کی ٹیموں نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی بھی قسم کی غیر قانونی کارروائی کی گئی تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ مسوری تھانے کے ایس ایچ او ہریندر ملک نے بھی محمد جنید کے والد سے ملاقات کی، جبکہ تنظیم نے واضح کیا کہ اگر مبینہ ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا تو متعلقہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج سے وابستہ بعض دیگر افراد بھی پولیس کارروائی کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔ اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چند طلبہ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنتر منتر سے واپسی پر انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔
واضح رہے کہ سی جے پی کا احتجاج نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مرکزی حکومت اور تنظیم کے درمیان مذاکرات کے بعد احتجاج ختم ہوا، جبکہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اس تنازع کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
محمد جنید جس تنظیم Cockroach Janta Party (CJP) کے حامی کے طور پر احتجاج میں شامل تھے، CJP نے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولیس سی جے پی کے حامی محمد جنید اور اس کے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے، جبکہ قانونی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
تاحال اتر پردیش پولیس کی جانب سے محمد جنید کے خاندان کی رہائی یا ان پر لگائے گئے تمام الزامات کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔



