قومی خبریں

مسلم مرد کی دوسری شادی جرم نہیں؟ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

"مسلم پرسنل لا کے تحت دوسری شادی خود بخود جرم نہیں بنتی"

نئی دہلی 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد پہلی بیوی کے زندہ ہوتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو یہ عمل خود بخود تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کے تحت جرم نہیں بنتا۔ عدالت نے یہ فیصلہ پہلی بیوی کی شکایت پر درج مقدمہ کو منسوخ کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

جسٹس بی پی شرما نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فریقین مسلم پرسنل لا کے دائرے میں آتے ہیں، جو مرد کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، لہٰذا محض دوسری شادی کرنا تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کے تحت جرم نہیں بنتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لا کے تحت دوسری شادی کو صرف اس بنیاد پر غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا کہ پہلی شادی موجود ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے دفعہ 494 کے تحت کارروائی کو قانونی طور پر برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔

تاہم عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ شوہر کے خلاف ظلم، مارپیٹ اور مجرمانہ دھمکی جیسے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ان الزامات کی تائید کے لیے کافی مواد موجود ہے، اس لیے ان پر مقدمہ جاری رہے گا۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق بیوی نے الزام لگایا تھا کہ اسے کئی سالوں سے ہراساں کیا جا رہا تھا اور 2022 میں شوہر نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کر لی۔ خاتون کے مطابق اس پر طلاق لینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا۔

شکایت کی بنیاد پر پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعات 498A، 494، 342، 323 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جبل پور کی نچلی عدالت نے تمام دفعات کے تحت الزامات طے کیے، جس کے خلاف ملزم نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔

ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد دفعہ 494 کے تحت کارروائی کو خارج کر دیا، جبکہ دیگر الزامات پر مقدمے کی سماعت جاری رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پرسنل لا کی دفعات بعض حالات میں آئی پی سی کی دفعہ 494 کے اطلاق کو متاثر کرتی ہیں، تاہم دیگر فوجداری الزامات کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button