لنچنگ کیس کے فیصلے کے بعد جج تبسم خان کو دھمکیاں، ہائی کورٹ نے سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جج تبسم خان کو دھمکیوں کے بعد سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا۔
بھوپال:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے لنچنگ کیس میں 14 گئو رکشکوں کو عمر قید کی سزا سنانے والی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو دی جانے والی فرقہ وارانہ دھمکیوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت اور پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔
جسٹس وویک اگروال اور جسٹس اویندر کمار سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یکم جولائی کو سماعت کے دوران جج تبسم خان کی سکیورٹی سے متعلق اٹھنے والے خدشات کو سنگین قرار دیتے ہوئے سینئر پولیس اور سرکاری حکام کو ہدایت دی کہ وہ جج کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔
جج تبسم خان نے 12 جون کو 2022 کے مشہور لنچنگ کیس میں 14 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کیس میں ٹرک ڈرائیور شیخ لالا نذیر احمد کو مدھیہ پردیش کے باراکھر گاؤں میں مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں ہجوم نے تشدد کرکے قتل کر دیا تھا۔
فیصلے کے بعد خود کو گئو رکشک تنظیمیں کہنے والے بعض گروپوں نے احتجاج کیا، جج کا پتلا نذر آتش کیا گیا اور سوشل میڈیا پر ان کی مذہبی شناخت کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد پوسٹس وائرل ہوئیں۔ ایک وائرل ویڈیو میں ایک شخص جج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے دھمکیاں دیتا بھی نظر آیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ایسے اقدامات عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بے خوفانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلوں کو صرف اپیل یا نظرثانی کے قانونی فورمز پر چیلنج کیا جا سکتا ہے، کسی جج کو فیصلہ سنانے پر دھمکانا قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔
عدالت نے عبوری حکم کے طور پر جج تبسم خان کو فراہم کی گئی پولیس سکیورٹی جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی نرمداپورم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ان افراد کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل ابھیجیت اوستھی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور پولیس سوشل میڈیا پر دھمکیاں دینے والوں کی شناخت کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔



