قومی خبریں

ممبئی کنزیومر کورٹ کا فلپ کارٹ کو بڑا جھٹکا، آئی فون کی جگہ داڑھی کا تیل بھیجنے پر ایک لاکھ سے زائد رقم واپس کرنے کا حکم

فلپ کارٹ اور فروخت کنندہ کو رقم، سود اور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

ممبئی، 24 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ممبئی کی ضلعی صارفین تنازعات ازالہ کمیشن نے معروف ای کامرس پلیٹ فارم فلپ کارٹ اور اس کے فروخت کنندہ کو ایک صارف کو آئی فون کی جگہ داڑھی بڑھانے کا تیل بھیجنے کے معاملے میں سخت جواب دہ قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ گیارہ ہزار روپے سے زائد رقم سود سمیت واپس کرنے اور مجموعی طور پر 70 ہزار روپے بطور ہرجانہ اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صارف کی شکایت کو بار بار "حل شدہ” قرار دے کر بند کر دینا، بغیر کسی مؤثر کارروائی کے، نہ صرف خدمت میں کوتاہی (Deficiency in Service) بلکہ غیر منصفانہ تجارتی عمل (Unfair Trade Practice) بھی ہے۔

عدالت کے مطابق جب کوئی صارف آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادائیگی کرکے کوئی پروڈکٹ خریدتا ہے تو متعلقہ ای کامرس کمپنی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آرڈر کردہ چیز ہی صارف تک پہنچے اور شکایت کی صورت میں فوری اور مؤثر ازالہ فراہم کیا جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فلپ کارٹ صرف فروخت کا پلیٹ فارم ہونے کا جواز پیش کرکے اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتا، خصوصاً ایسے معاملے میں جہاں صارف نے فوری طور پر اطلاع دی ہو کہ اسے مکمل طور پر مختلف چیز موصول ہوئی ہے۔

یہ مقدمہ ممبئی کے علاقے پووئی کے ایک رہائشی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس نے 22 اپریل 2023 کو فلپ کارٹ سے Apple iPhone 14 Pro (128GB) ایک لاکھ 11 ہزار 793 روپے میں نو کاسٹ ای ایم آئی اسکیم کے تحت خریدا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق موبائل چارجر اور کور تو درست طریقے سے موصول ہوگئے، تاہم اگلے روز آنے والے اصل پیکٹ میں مہنگے اسمارٹ فون کی بجائے داڑھی بڑھانے کا تیل اور پیکنگ کا سامان موجود تھا۔

متاثرہ خریدار نے اپریل سے مئی 2023 کے دوران متعدد بار فلپ کارٹ کی کسٹمر سروس سے رابطہ کیا اور مطلوبہ دستاویزات بھی فراہم کیں، لیکن نہ تو اسے نیا فون دیا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔ اس کی شکایت کو مسلسل "Resolved” قرار دے کر بند کر دیا گیا۔

کمیشن نے فلپ کارٹ اور فروخت کنندہ International Value Retail Pvt Ltd کو مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ خریدار کو ایک لاکھ 11 ہزار 793 روپے 9 فیصد سالانہ سود کے ساتھ 22 اپریل 2023 سے ادائیگی کی تاریخ تک واپس کیے جائیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے ذہنی اذیت اور ہراسانی پر 50 ہزار روپے بطور ہرجانہ جبکہ 20 ہزار روپے عدالتی اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا بھی حکم دیا، جس کی ادائیگی 45 دن کے اندر کرنا ہوگی۔

دوسری جانب ایپل انڈیا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف ایپل مصنوعات کی فروخت کے لیے آزاد ڈیلرز اور ری سیلرز کے ساتھ کاروبار کرتی ہے اور مصنوعات کی پیکنگ یا ترسیل پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں۔

کمیشن نے ایپل انڈیا کا مؤقف قبول کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ صرف غلط پروڈکٹ کی ترسیل سے متعلق ہے اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ پیکنگ، ڈسپیچ یا سروس میں مبینہ کوتاہی کے لیے ایپل انڈیا ذمہ دار ہے، لہٰذا کمپنی کے خلاف شکایت خارج کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button