
پرتگال میں ملازمت کا جھانسہ،ناگپور کی خاتون سے 11 لاکھ روپے کی ٹھگی، انسانی اسمگلنگ کا الزام
انسٹاگرام پر ملازمت کا وعدہ، لاکھوں روپے کی ادائیگی-
پونے، 7 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): بیرون ملک اچھی ملازمت کا خواب ایک بھارتی خاتون کے لیے خوفناک تجربہ ثابت ہوا۔ مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے یورپ میں سپر مارکیٹ کی ملازمت دلانے کا وعدہ کر کے 11 لاکھ روپے وصول کیے گئے، مگر بعد میں اسے پرتگال لے جا کر ایک شخص کے حوالے کر دیا گیا جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی استحصال کی کوشش کی گئی۔ خاتون کی شکایت پر پونے پولیس نے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ دسمبر 2025 میں بیرون ملک ملازمت کی تلاش کے دوران اس کی نظر انسٹاگرام پر ایک مائیگریشن کنسلٹنسی کے اشتہار پر پڑی۔ ادارے کی جانب سے پرتگال میں سپر مارکیٹ میں کیشیئر کی ملازمت، ماہانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ، محدود اوقاتِ کار اور تین سالہ ورک پرمٹ کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس مقصد کے لیے ویزا اور دیگر کارروائی کے نام پر اس سے 11 لاکھ روپے مختلف قسطوں میں وصول کیے گئے۔
شکایت کے مطابق مارچ 2026 میں خاتون کو پونے کے دفتر بلا کر متعدد دستاویزات پر دستخط کروائے گئے لیکن ان کی کوئی نقل فراہم نہیں کی گئی۔ بعد ازاں 21 مئی کو وہ ممبئی سے ابو ظہبی اور پھر اسپین کے شہر میڈرڈ پہنچی، جہاں سے اسے پرتگال منتقل کیا گیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ پرتگال پہنچتے ہی اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور دو دن تک اسے ایک کمرے میں محدود رکھا گیا۔ بعد میں پاسپورٹ واپس لینے کے لیے مزید 40 ہزار روپے طلب کیے گئے۔ اسے بتایا گیا کہ رہائشی اجازت نامہ ملنے تک عارضی طور پر وہیں قیام کرنا ہوگا، مگر سپر مارکیٹ میں ملازمت دینے کے بجائے اسے ایک بیئر شاپ پر کام کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اسی مکان میں راجستھان اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والی دو بھارتی خواتین بھی موجود تھیں، جنہوں نے بتایا کہ انہیں بھی روزگار کے نام پر پرتگال لایا گیا تھا لیکن حالات وعدوں کے بالکل برعکس نکلے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ مخالفت کرنے پر اسے بتایا گیا کہ بھرتی کرنے والے افراد نے رقم لے کر اسے اس شخص کے حوالے کیا ہے۔
صورتحال سنگین ہونے پر خاتون نے اپنے شوہر سے رابطہ کیا اور 29 جون کو وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ بس کے ذریعے لزبن پہنچی، پھر میڈرڈ گئی اور دوحہ کے راستے دہلی واپس آ کر آخرکار ناگپور پہنچ گئی۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وطن واپسی کے بعد بھی بعض ملزمان اس سے رابطہ کرتے رہے، مالٹا میں نئی ملازمت دلانے کے نام پر مزید تین لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے شوہر کو مبینہ دھمکیاں بھی دی گئیں۔ خاتون نے ذہنی صدمے کے باعث کچھ عرصہ خاموشی اختیار کی، تاہم بعد میں پونے کرائم برانچ سے رجوع کیا، جس کے بعد ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے پونے میں موجود چار اور پرتگال میں مقیم تین ملزمان کو نامزد کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام بھرتی ایجنسی کے کردار، مالی لین دین اور بیرون ملک موجود افراد سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ پرتگال کے متعلقہ اداروں سے بھی رابطے کی تیاری کی جا رہی ہے۔



