نیرَو مودی کو بھارت کے حوالے کرنے کی راہ ہموار، یورپی عدالت نے آخری اپیل مسترد کر دی
یورپی عدالت میں آخری اپیل مسترد ہونے کے بعد نیرَو مودی کے تمام قانونی راستے بند۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پنجاب نیشنل بینک (PNB) کے ہزاروں کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کیس کے مرکزی ملزم اور مفرور ہیرا تاجر نیرَو مودی کو کسی بھی وقت بھارت لایا جا سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق برطانوی حکام نے نیرَو مودی کی بھارت حوالگی کے لیے ضروری انتظامی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
نیرَو مودی کو مارچ 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ لندن کی وانڈز ورتھ جیل میں قید ہیں۔ ان پر پنجاب نیشنل بینک کے خلاف دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔ اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کئی برسوں سے ان کی تلاش میں تھے۔
نیرَو مودی نے برطانیہ کی عدالتوں میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت کے حوالے کیے جانے کی صورت میں انہیں تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم برطانوی عدالتوں نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے جیلوں میں سکیورٹی اور سہولیات سے متعلق دی گئی یقین دہانیوں کو تسلی بخش قرار دیا۔
حال ہی میں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ECHR) کی جانب سے نیرَو مودی کی آخری اپیل مسترد کیے جانے کے بعد ان کے تمام قانونی راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ان کی بھارت حوالگی اب صرف انتظامی کارروائیوں کی تکمیل کی منتظر ہے۔
بھارت کی تفتیشی ایجنسیاں نیرَو مودی کی واپسی کو ملک کے سب سے بڑے بینکنگ فراڈ کیس میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔



