
23 اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس سوریہ کانت کو خط لکھ کر انتخابی عمل اور SIR پر اٹھائے سوالات
اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کی تقرریوں، مرکزی ایجنسیوں کے مبینہ استعمال اور 2027 کے انتخابات سے قبل SIR مشق روکنے کا مطالبہ کیا۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک کی 23 اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو ایک مشترکہ خط لکھ کر ملک کے انتخابی عمل پر سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ انتخابات کے نتائج عوام کی حقیقی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔
خط پر انڈین نیشنل کانگریس، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے)، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار)، عام آدمی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور مختلف بائیں بازو کی جماعتوں سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے دستخط کیے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) جیسی مرکزی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن کو نشانہ بنانے، منتخب حکومتوں کو گرانے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
خط میں الیکشن کمیشن کی تقرریوں پر بھی سوال اٹھائے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کمیشن میں ہونے والی تقرریاں شفاف نہیں رہیں۔ اپوزیشن نے بہار، مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابات سے قبل SIR عمل کو غیر ضروری قرار دیا۔
بہار میں SIR مشق کے حوالے سے خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں کی "سینیٹائزیشن” اور مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کی موجودگی کا جواز پیش کیا، تاہم اس دعوے کی حمایت میں کوئی سرکاری اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔
اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں ممکن ہو وہاں دوبارہ پیپر بیلٹ ووٹنگ سسٹم متعارف کرایا جائے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل دیگر ریاستوں میں SIR مشق کو روک دیا جائے۔
خط میں کہا گیا کہ جب تمام ادارے ناکام ہو جاتے ہیں تو عوام عدلیہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور اگر عدلیہ بھی مؤثر جواب نہ دے سکے تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین صورتحال ہوگی۔



