
جین زی کی مدد سے پرشانت کشور کو کامیابی-اننت گپتا
کیا جن سواراج، آر جے ڈی کی جگہ لے سکتی ہے؟
ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو حیرت ناک بلکہ شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر بہار کے بانکی پور اسمبلی حلقہ سے پرشانت کشور کی کامیابی نے بی جے پی خیموں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ انتخابی حکمت ساز سے سیاستداں بننے والے پرشانت کشور کی کامیابی سے خود بی جے پی قائدین حیرت سے دوچار ہوگئے کیونکہ پچھلے تیس برسوں میں اس حلقہ سے بی جے پی کو کوئی بھی شکست نہیں دے سکا۔ پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو زائد از 19 ہزار ووٹوں سے ہرادیا۔
9 ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا جب بہار اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تھا جس میں پرشانت کشور کی جن سواراج پارٹی کے امیدوار کو حلقہ اسمبلی بانکی پور سے نہ صرف شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس نے تیسرا مقام حاصل کیا۔
آپ کو بتادیں کہ بی جے پی کے موجودہ قومی صدر نتین نبین نے مسلسل 5 مرتبہ اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی چونکہ نتین نبین کو بی جے پی قومی صدر کے عہدہ پر فائز کرکے راجیہ سبھا کارکن بنایا گیا اس لئے بانکی پور حلقہ میں ضمنی انتخابات ضروری ہوگئے تھے۔
جب ضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا پرشانت کشور جنہوں نے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرکے خود کو مختلف حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنالیا تھا سب سے پہلے اس الیکشن میں مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ بی جے پی نے اپنی دیرینہ حلیف نتیش کمار کی جنتادل (یو) کی قیادت کو ہٹاکر سمراٹ چودھری کو عہدہ چیف منسٹری عطا کی۔ اگرچہ اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور کی پارٹی کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں ملی۔ کامیابی تو دور کی بات ان کی پارٹی اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں بھی ناکام رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پرشانت کشور کو حالیہ عرصہ کے دوران دہلی سے شروع ہوئے نوجوان طلبہ کے احتجاج سے زبردست فائدہ ہوا اور ان کی کامیابی Zen-G کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ نوجوانوں کا وہ احتجاج دہلی سے بہار بھی پہنچ گیا تھا ان مبصرین کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پرشانت کشور کی پارٹی راشٹریہ جنتادل کی جگہ بی جے پی کی حقیقی مخالف ہوگی اصلی حریف پارٹی ہوگی۔
تاہم پرشانت کشور کے لئے اپریل میں سیاسی جگہ دستیاب ہوئی جب نتیش کمار نے اچانک عہدہ چیف منسٹری سے دستبرداری کا اعلان کیا اور پھر بی جے پی کو بہار میں اپنا چیف منسٹر بنانے کا پہلی مرتبہ موقع مل گیا جس پر پرشانت کشور کو یہ دعویٰ کرنے کا سنہری موقع مل گیا کہ انہوں نے نتیش کمار کے سیاسی کیریئر کے عنقریب ختم ہونے کی جو پیش قیاسی کی تھی وہ درست ثابت ہوئی۔
دوسری طرف بی جے پی کی جانب سے سمراٹ چودھری کو چیف منسٹر بنانے سے پہلے ہی پرشانت کشور انہیں ان کی مبہم تعلیمی قابلیت اور مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کے لیء تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا اور جب سمراٹ چودھری کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا گیا پرشانت کشور نے ان کے خلاف تنقید میں شدت پیدا کردی۔
اسمبلی انتخابات کے برخلاف بانکی پور ضمنی انتخابات میں پرشانت کشور نے ساری توجہ بی جے پی پر مرکوز کردی۔ ایک سیاسی تجزیہ نگار اشونی کمار کے مطابق آپ بانکی پور کے ہر دوسرے یا تیسرے مکان میں ایک یو پی ایس سی امیدوار کو پائیں گے۔ اس حلقہ میں ریٹائرڈ سفارت کار اور بیوروکریٹس مقیم ہیں۔
اشونی کمار کے مطابق ان لوگوں نے سوشاسن (بہتر حکمرانی) کے آئیڈیا کو استعمال کیا۔ اب نتیش کمار کے ساتھ نیا بہار کی جگہ پرشانت کشورکی طرف دیکھ رہے ہیں۔
پی کے نے بہار میں نوجوانوں یا Zen-G کے احتجاج سے بھی فائدہ اٹھایا۔ جن سواراج پارٹی کے بانی نے 20 جولائی کے بعد احتجاجی طلبہ کی زبردست تائید و حمایت کی اور کہا کہ طلبا پر دہلی پولیس کے مظالم کا جواب بانکی پور کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ دیں گے۔
انہوں نے بی جے پی کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم جمہوریت میں رہتے ہیں۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پرشانت کمار کو بھارت بھوشن تیواری کے انکاؤنٹر میں موت کا بھی فائدہ ہوا، وہ بھوجپور سے تعلق رکھنے والا اعلیٰ ذات کا نوجوان تھا جس کے نتیجہ میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں میں بی جے پی سے ناراضگی پیدا ہوئی۔
پرشانت کشور نے تیواری کے گاؤں کا دورہ کیا اور تیواری کے قتل کے لئے ریاستی حکومت کے سینئر عہدہ داروں کو ذمہ دار قرار دیا۔



