سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کا مقدمہ: انمول بشنوئی نے خودسپردگی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا
عدالت سے خودسپردگی کی اجازت اور پروڈکشن وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کر دی۔
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے مقدمے میں ملزم انمول بشنوئی نے ممبئی کی خصوصی عدالت سے خودسپردگی کی اجازت طلب کر لی ہے۔ انمول بشنوئی نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ وہ انصاف اور شفاف عدالتی کارروائی کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
انمول بشنوئی اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ انہیں گزشتہ برس امریکہ سے بھارت لایا گیا تھا، جس کے بعد قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ وہ پہلے ہی ایک مقدمے میں عدالتی تحویل میں ہیں، اس لیے عدالت کے حکم کے بغیر ممبئی کی خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے انہوں نے تہاڑ جیل انتظامیہ کے نام پروڈکشن وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ ان کی خودسپردگی کو باقاعدہ طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔
خصوصی جج ایس آر نویندر نے سرکاری وکیل کو انمول بشنوئی کی درخواست پر جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلمان خان کے گھر پر فائرنگ کے مقدمے کی سماعت جاری ہے اور اب تک تین گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ 14 اپریل 2024 کو دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ممبئی میں سلمان خان کی رہائش گاہ گلیکسی اپارٹمنٹس کے باہر فائرنگ کی تھی اور فرار ہو گئے تھے۔ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں منظم جرائم کی روک تھام کے قانون (ایم سی او سی اے) کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حملے کی منصوبہ بندی لارنس بشنوئی گینگ نے کی تھی۔
اس مقدمے میں شوٹر وکی گپتا، ساگر پال، سونو کمار بشنوئی، محمد رفیق چودھری اور ہرپال سنگھ سمیت کئی ملزمان عدالتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔



