بین الاقوامی خبریں

سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی تیل پائپ لائن کو شدید نقصان کا انکشاف

ڈرون حملے کے بعد پمپنگ اسٹیشن میں آگ، صحرائی علاقے میں خام تیل اخراج کے آثار

مدینہ، 14 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سیٹلائٹ تصاویر سے سعودی عرب کی مشرق تا مغرب خام تیل پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ نقصان مدینہ کے جنوب مشرق میں واقع صحرائی علاقے میں ایک مبینہ ڈرون حملے کے بعد ہوا۔ رائٹرز نے وانٹور کی سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔

 جاری کی گئی تصاویر میں 11 ستمبر، جمعہ کو ہونے والے حملے کے بعد تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل مشرق تا مغرب پائپ لائن کے ایک پمپنگ اسٹیشن کو بری طرح متاثرہ حالت میں دکھایا گیا ہے۔ اس حملے کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی تھی۔ تصاویر میں پمپنگ اسٹیشن کا پروسیسنگ ایریا آگ لگنے کے باعث بری طرح سیاہ دکھائی دے رہا ہے، جبکہ تنصیب سے خارج ہونے والا خام تیل اطراف کے صحرائی علاقے میں بھی پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔

سعودی عرب نے تاحال نقصان کی تفصیلی تشخیص جاری نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ پائپ لائن میں تیل کی ترسیل کب دوبارہ شروع ہوگی۔ رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع نے مرمت کے ممکنہ دورانیے کے حوالے سے مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق پائپ لائن کی بحالی میں چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ محدود پیمانے پر تیل کی پمپنگ اس سے پہلے بھی بحال کی جاسکتی ہے۔

مشرق تا مغرب پائپ لائن میں روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ معمول کے حالات میں اس کے ذریعے تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل روزانہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ مقدار عالمی تیل کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتی ہے۔

تیل کی صنعت سے وابستہ سعودی عرب کی برآمدی سرگرمیوں سے واقف تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ینبع میں موجود ذخائر پائپ لائن کی بندش کے دوران صرف پانچ سے سات دن تک تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے کافی ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس مصر کی عین سخنہ اور سیدی کریر بندرگاہوں پر بھی خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو مزید کئی دن تک صارفین کو تیل فراہم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ ذخائر بھی محدود ہیں اور اگر پائپ لائن کی بحالی میں تاخیر ہوئی تو بالآخر ختم ہوجائیں گے۔

خطے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں جاری خلل کے باعث یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔ مشرق تا مغرب پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرہ احمر کے راستے خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا متبادل فراہم کرتی ہے۔

سعودی عرب نے پائپ لائن پر حملے کا الزام عراق سے آنے والے ڈرونز پر عائد کیا ہے۔ عراقی حکام نے بھی کہا ہے کہ ڈرون عراقی سرزمین سے روانہ ہوئے تھے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں جاری تنازع توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ یمن میں ایران نواز حوثی فورسز نے بھی سعودی اہداف کے خلاف اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔

حوثیوں نے باب المندب آبنائے کے داخلی راستے پر واقع پیریم، جسے میون جزیرے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ تزویراتی اہمیت کا حامل جزیرہ ایک اہم بحری راستے پر نظر رکھتا ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button