بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

مہاراشٹر: آشرم اسکول میں 22 طالبات سے بدفعلی، باورچی گرفتار

تھانے، مہاراشٹر، 28 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے شاہ پور میں ایک سرکاری قبائلی آشرم اسکول کے 35 سالہ ملازم کو 22 نابالغ طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور نامناسب رویے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گنپت گاولی عرف جھپرو کے خلاف اس سے قبل بھی 2024 میں ایک دوسرے آشرم اسکول میں نابالغ طالبہ سے مبینہ بدسلوکی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور اسے اس معاملے میں گرفتار کرکے کئی ماہ جیل میں رکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق گنپت گاولی 2024 میں ایک دوسرے آشرم اسکول میں کام کررہا تھا، جہاں اس پر ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا الزام عائد ہوا۔ گرفتاری کے بعد وہ کئی ماہ جیل میں رہا اور بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد اسے شاہ پور کے ایک سرکاری قبائلی آشرم اسکول میں باورچی کے معاون کے طور پر ملازمت مل گئی، جہاں وہ تقریباً ایک سال سے کام کررہا تھا۔

موجودہ معاملہ بدھ کے روز اس وقت سامنے آیا جب رہائشی آشرم اسکول میں زیر تعلیم طالبات نے گنپت گاولی کے خلاف ہراساں کرنے اور نامناسب رویے کی شکایات کیں۔ پولیس کے مطابق دسویں جماعت کی ایک طالبہ نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے اسے اس وقت اکیلا پاکر گھیر لیا تھا اور مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی کوشش کی۔

اس شکایت کی تحقیقات کے دوران مزید 21 نابالغ طالبات نے بھی گنپت گاولی کے مبینہ نامناسب رویے کے بارے میں شکایات درج کرائیں۔ اس طرح شکایت کرنے والی طالبات کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی جانچ کی جارہی ہے اور طالبات کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔

پولیس کے مطابق آشرم اسکول کی عمارت میں دوسری منزل پر لڑکوں کا ہاسٹل جبکہ تیسری منزل پر لڑکیوں کا ہاسٹل واقع ہے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ملزم نے طالبات کے ہاسٹل اور اسکول کے دیگر حصوں کے درمیان آنے جانے کے دوران ان کی نقل و حرکت کا فائدہ اٹھایا۔

شاہ پور پولیس نے گنپت گاولی کے خلاف POCSO ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس اب اس معاملے کی بھی جانچ کررہی ہے کہ 2024 میں اسی نوعیت کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے شخص کو دوبارہ سرکاری آشرم اسکول میں ملازمت کیسے دی گئی۔

حکام کے مطابق گنپت گاولی کو سابقہ مقدمے کے بعد ضمانت پر رہائی ملی تھی، جس کے بعد وہ مرباد کے موروشی آشرم اسکول میں تعینات رہا اور بعد میں اسے تمبا کے آشرم اسکول میں منتقل کردیا گیا۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ سابقہ مقدمے اور گرفتاری کی معلومات متعلقہ محکمہ کے ریکارڈ میں موجود تھیں یا نہیں اور اس کے باوجود اسے دوبارہ تعلیمی ادارے میں ملازمت دینے کی اجازت کیسے ملی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ملزم کے سابقہ مقدمے اور موجودہ شکایات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button