قومی خبریں

بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کیس: سپریم کورٹ بھوج شالہ کمپلیکس کے قریب نماز کی جگہ سے متعلق درخواست پر 29 جولائی کو سماعت کرے گی

سپریم کورٹ 29 جولائی کو بھوج شالہ کمپلیکس کے قریب نماز کی جگہ سے متعلق مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

نئی دہلی، 24 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کیس میں مسلم فریق کی اس درخواست پر 29 جولائی کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں بھوج شالہ کمپلیکس کے قریب جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے متبادل مقام فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

جمعہ کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ کے روبرو سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے نماز کے لیے مختص کی گئی متبادل جگہ مسجد سے کافی دور ہے، جس کے باعث گزشتہ دو جمعوں کی نماز متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے دیا گیا مقام سڑک کے راستے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے، جبکہ عدالت کی ہدایت کے مطابق کمال مولا مسجد کے قریب جگہ فراہم کی جانی چاہیے۔

اس پر مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ متبادل مقام تقریباً 900 میٹر کے فاصلے پر ہے اور حکومت عدالت کے احکامات پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انتظامیہ بھوج شالہ کے مزید قریب مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حذیفہ احمدی نے اس پر کہا کہ صرف فضائی فاصلے کا حوالہ دینا درست نہیں کیونکہ سڑک کے ذریعے اصل فاصلہ تقریباً 1.3 کلومیٹر بنتا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے عبوری درخواست کو 29 جولائی کے لیے سماعت پر مقرر کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کیس کی سماعت کے دوران مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک جمعہ کی نماز کے لیے دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان متنازع مقام سے متصل کسی کھلی جگہ پر متبادل انتظام کیا جائے۔

یہ مقدمہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف زیر سماعت ہے، جس میں بھوج شالہ کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button