
سپریم کورٹ نے کیرالہ وقف بورڈ کی سرکاری نگرانی ختم کر دی، ہائی کورٹ کی پابندیاں برقرار
کیرالہ وقف بورڈ سے متعلق مقدمے کی سماعت۔
نئی دہلی، 21 جولائی (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے منگل کو کیرالہ ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم میں مداخلت سے انکار کر دیا جس کے تحت کیرالہ وقف بورڈ کو نئی پالیسی سازی اور بڑے مالی اخراجات کرنے سے روکا گیا تھا۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے اس حصے کو ختم کر دیا جس میں ایک سینئر سرکاری افسر کو وقف بورڈ کی نگرانی سونپی گئی تھی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس جوئمالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی بھی شامل تھے، نے کہا کہ جب بورڈ پہلے ہی کسی بڑی پالیسی یا سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے عدالت کی اجازت کا پابند ہے تو اس پر اضافی سرکاری نگرانی عائد کرنے کی ضرورت نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جوائنٹ سیکریٹری یا ایڈیشنل سیکریٹری وقف بورڈ کے سرکاری رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، تاہم انہیں بورڈ کی نگرانی کا اختیار نہیں ہوگا۔
عدالت نے معاملہ دوبارہ کیرالہ ہائی کورٹ کو بھیجتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کرنے کے بعد کیس کی جلد سماعت اور فیصلہ کیا جائے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت بدھ کو مقرر ہے۔
کیرالہ وقف بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے اس کا مؤقف سنے بغیر عبوری حکم جاری کیا، جس سے بورڈ کا معمول کا کام متاثر ہوا۔ بورڈ کے وکلا نے یہ بھی کہا کہ دو غیر مسلم ارکان کی تقرری میں تاخیر کو بنیاد بنا کر پورے بورڈ کے اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ خالی نشستیں بعد میں بھی پُر کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب ریاستی حکومت نے عدالت میں کہا کہ وہ UMEED Act 1995 میں 2025 کی گئی ترمیم پر عملدرآمد کی حامی ہے، جس کے تحت وقف بورڈ میں کم از کم دو غیر مسلم ارکان کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ شیعہ نمائندے کی تقرری کا معاملہ بھی زیر غور ہے اور اس کے لیے مسلم آبادی کے مختلف طبقات کی نمائندگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ معاملہ تمل ناڈو وقف بورڈ کے اس مقدمے سے مختلف ہے جس میں پورے بورڈ کو عملاً غیر فعال کر دیا گیا تھا، جبکہ کیرالہ میں وقف بورڈ کو صرف مخصوص شرائط کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔



