
سپریم کورٹ نے آسارام باپو کی طبی جانچ کے لیے ایمس کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، ضمانت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر
طبی رپورٹ آنے تک ضمانت پر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، عدالت کا واضح مؤقف
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے خود ساختہ مذہبی رہنما اور ریپ کیس میں سزا یافتہ آسارام باپو کی طبی بنیادوں پر دائر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرنے سے قبل آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کو ان کا جامع طبی معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ایمس کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو آسارام کی مکمل طبی جانچ کرکے رپورٹ پیش کرے کہ آیا ان کی صحت ایسی ہے کہ انہیں اسپتال میں داخل کرنے یا طبی بنیادوں پر ریلیف دینے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی وارالے پر مشتمل بینچ نے کہا کہ آسارام کی صحت کا ہر پہلو تفصیل سے جانچا جائے گا اور یہ فیصلہ طبی ماہرین کریں گے کہ انہیں مریض کی حیثیت سے اسپتال میں داخل رکھنے کی ضرورت ہے یا بیرونی مریض کے طور پر علاج ممکن ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے مکمل میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت 30 جولائی مقرر کرتے ہوئے کہا کہ صرف صحت سے متعلق دعووں کی بنیاد پر فوری ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے پہلے بھی اشارہ دیا تھا کہ وہ اس وقت تک کوئی عبوری ریلیف نہیں دے گی جب تک یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ آسارام کی طبی حالت واقعی ضمانت کی متقاضی ہے یا ریاست کا مؤقف مکمل طور پر نہ سن لیا جائے۔
سماعت کے دوران راجستھان حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آسارام نے پہلے بھی طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کی تھی، لیکن بعد میں وہ مختلف مذہبی مقامات پر جاتے رہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آسارام حالیہ مہینوں میں کاشی وشوناتھ اور ایودھیا کے دورے بھی کر چکے ہیں، جس سے ان کی صحت سے متعلق دعووں پر سوال اٹھتے ہیں۔
دوسری جانب آسارام کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ دیوادت کماٹ نے عدالت کو بتایا کہ 85 سالہ آسارام کو حال ہی میں شدید اندرونی خون بہنے (Acute Internal Bleeding) کی شکایت ہوئی ہے، اسی وجہ سے درخواست پر فوری سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ مقدمہ اگست 2013 میں جودھپور کے منائی علاقے میں واقع آسارام کے آشرم سے متعلق ہے، جہاں ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر روک کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور دھمکانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ رواں سال مئی میں راجستھان ہائی کورٹ نے ریپ، جووینائل جسٹس ایکٹ اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز (POCSO) ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت آسارام کی سزا برقرار رکھی تھی، تاہم عدالت نے مجرمانہ سازش اور اجتماعی زیادتی کے الزامات میں آسارام اور دو شریک ملزمان کو بری کر دیا تھا کیونکہ ان الزامات کے لیے مطلوبہ شواہد ناکافی قرار دیے گئے تھے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آسارام نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سزا کو چیلنج کیا اور طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی۔ اب سپریم کورٹ ایمس کی طبی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی اس درخواست پر مزید فیصلہ کرے گی۔



