
طلاق کیس میں شوہر کے دفتر شکایت کرنا ‘بدترین اقدام’، سپریم کورٹ
شوہر کی ملازمت ختم کروانے کی کوشش نان و نفقہ پر بھی اثر ڈال سکتی ہے
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ آف انڈیا نے ازدواجی تنازعات کے دوران بیوی کی جانب سے شوہر کے آجر یا محکمے کو شکایت بھیجنے کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے "بدترین اقدامات میں سے ایک” قرار دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسی شکایات شوہر کی ملازمت ختم ہونے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف اس کی معاشی حالت متاثر ہوتی ہے بلکہ مستقبل میں نان و نفقہ سے متعلق قانونی دعووں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ ایک خاتون کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا، جس میں اس نے اپنے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کو آسام سے غازی آباد، اتر پردیش منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ وہ پہلے ہی غازی آباد میں اپنے شوہر کے ساتھ متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے ایک اور ریاست میں مقدمے کی پیروی ان کے لیے دشوار ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ خاتون نے دہلی میں بھارتی فضائیہ کے حکام کو ایک درخواست بھیجی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے شوہر، جو فضائیہ کے افسر ہیں، ملازمت کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ اسی شکایت کی بنیاد پر شوہر کے دوست نے خاتون کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔
جسٹس ناگارتھنا نے ریمارکس دیے کہ ازدواجی اختلافات میں طلاق کا مطالبہ اپنی جگہ ایک قانونی حق ہے، لیکن شریکِ حیات کی ملازمت ختم کروانے کی کوشش اس سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات خاندان کی معاشی صورتحال اور نان و نفقہ کے معاملات پر پڑ سکتے ہیں۔
خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فضائیہ کے حکام کو شکایت اس وقت بھیجی گئی تھی جب شوہر نے مبینہ طور پر ان کے اور ان کے بھائی کے خلاف فضائیہ کا ہیلمٹ چوری کرنے کی جھوٹی شکایت درج کرائی تھی۔ ان کے مطابق شکایت ذاتی انتقام کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دفاع میں کی گئی تھی۔
فریقین کے درمیان جاری قانونی تنازع کے پیشِ نظر سپریم کورٹ نے معاملہ سپریم کورٹ کے ثالثی مرکز (Mediation Centre) کے سپرد کر دیا تاکہ باہمی مصالحت کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے خاتون کے وکیل پر بھی زور دیا کہ دونوں فریق باہمی اتفاقِ رائے سے تنازع ختم کرنے اور زیرِ التوا مقدمات واپس لینے پر غور کریں، تاکہ طویل قانونی لڑائی کے بجائے معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔



