بین الاقوامی خبریںسرورق

بھوک اور سردی کی دشواریاں بتاتے ہوئے شامی بچی آبدیدہ، دوسروں کو بھی رلادیا

سردی ہے، سردی اور بھوک، ہر روز ہم اسی طرح سوتے ہیں، جس دن سے ہمارے والد کا انتقال ہوا‘ ان الفاظ کے ساتھ ایک شامی لڑکی نے اپنے حالات کا درد بیان کیا۔ ی

دبئی ، 8دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ’ اے چچا، سردی ہے، سردی اور بھوک، ہر روز ہم اسی طرح سوتے ہیں، جس دن سے ہمارے والد کا انتقال ہوا‘ ان الفاظ کے ساتھ ایک شامی لڑکی نے اپنے حالات کا درد بیان کیا۔ یہ تکلیف اسے بغیر کسی قصورکے پہنچی تھی۔ چند گھنٹوں میں اس کے یہ الفاظ سوشل میڈیا کا چرچا بن گئی۔ویڈیو کلپ ٹویٹر پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا، اس کلپ میں بے گھر ہونے والے کیمپوں میں سردی اور بھوک کے ساتھ رہنے والوں کی تکلیف بیان کی گئی۔ اس سے بھی بدتر حالت جنگ کے ساتھ رہنے والوں کی ہے اس جنگ نے کسی کو بھی اپنی بربادی کی لعنت سے محفوظ نہیں رکھا۔شام کی لڑائی کے دوران وہ بچی جس کی عمر چند برسوں سے زیادہ نہیں تھی اپنے آنسو روک نہیں سکی کیونکہ وہ اس کے گالوں پر موتیوں کی طرح بکھر گئے۔

اس کے ساتھ اس کی بہن بھی ہے جو پریشانی کے ساتھ بتانے لگی کہ نقل مکانی کی لعنت کا شکار شام کا شمال کس تکلیف دہ سے دوچار ہے۔اپنی باتوں اور تکلیف میں اس نے تصدیق کی کہ وہ برسوں سے اپنے خاندان کے ساتھ ایک خیمے میں رہ رہی ہے، لکڑی کی کمی کا شکار ہے، اس لیے وہ سردی کی شدت سے اپنے اعضاء کو محسوس کیے بغیر سو جاتی ہے۔اس نے اپنے الفاظ میں بچوں کی پوری معصومیت کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ اس کے والد جنگ میں مارے گئے تھے اور اس وقت سے ان کا یہ حال ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ بھوک بھی ان کے پیٹ میں روز کھاتی ہے۔

یاد رہے کہ یہ ویڈیو کلپس چند گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ پر پھیل گیا اس کلپ کو ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے اکاؤنٹ سے نقل کیا گیا ہے جو شمالی شام میں بحرانوں سے نمٹنے اور غریب ترین انسانی معاملات کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنے والی ٹیم ہے۔ٹیم نے دونوں لڑکیوں کی ویڈیو کو ان میں سے ایک کے الفاظ کے تبصرے کے ساتھ منسلک کیا تمام بچے جن کے چچا اور والد ہیں وہ گرم سوتے ہیں، چچا ہم ہر روز ٹھنڈے اور بھوکے سوتے ہیں۔بے گھر ہونے والے کیمپوں میں شامی مہاجرین ہمیشہ جابرانہ حالات سے دوچار رہے ہیں، خصوصاً بے رحم سردیوں کے آغاز میں ہمیں مزید دشواریوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button