ترنمول کانگریس میں بغاوت کی بازگشت، ممتا بنرجی کے اجلاس میں 80 میں سے صرف 8 ارکان اسمبلی شریک
ترنمول کانگریس نے قائد حزب اختلاف کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان
نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترنمول کانگریس میں مبینہ اندرونی اختلافات اور سیاسی بے چینی کے درمیان مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ پر جمعہ کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق 80 ارکان اسمبلی میں سے صرف 8 ارکان اور 6 ارکان پارلیمنٹ اس اجلاس میں شریک ہوئے، جس کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیوں نے مزید زور پکڑ لیا۔
اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان اسمبلی میں بینا منڈل، اشیما پاترا، مدن مترا، کنال گھوش، فرہاد حکیم، سوبھاندیب چٹوپادھیائے، بیمان بنرجی اور اشوک کمار دیب شامل تھے۔ اسی طرح اجلاس میں شریک ارکان پارلیمنٹ میں ڈولا سین، مالا رائے، کلیان بنرجی، ابھیشیک بنرجی، ڈیرک اوبرائن اور سدیب بندوپادھیائے شامل تھے۔
اجلاس کے بعد کلیان بنرجی نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے مقرر کردہ قائد حزب اختلاف کو پارٹی غیر قانونی سمجھتی ہے اور اس فیصلے کے خلاف پیر کے روز ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں ٹی ایم سی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر عدالت اور عوامی سطح دونوں پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
ادھر ممتا بنرجی نے پارٹی میں بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیلیوں کا اعلان بھی کیا۔ نئی تنظیمی ترتیب کے تحت ابھیشیک بنرجی بدستور قومی جنرل سکریٹری برقرار رہیں گے، جبکہ ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سین کو قومی مشترکہ سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما چندریما بھٹاچاریہ کو ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ سبکدوش ہونے والے ریاستی صدر سبھرتا بخشی کی جگہ انہیں یہ عہدہ دیا گیا ہے۔
یہ تنظیمی تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں اپنی تمام کمیٹیوں اور ذیلی تنظیموں کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سیاسی حلقوں میں اس اجلاس کو پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے چند رہنماؤں، جن میں رتابرتا بنرجی اور سندیپن ساہا شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ریاستی اسمبلی کے 58 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ان رہنماؤں نے سوبھاندیب چٹوپادھیائے کو قائد حزب اختلاف مقرر کیے جانے کی بھی مخالفت کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی اندرونی صورتحال اور عدالتی کارروائیاں مغربی بنگال کی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔



