قومی خبریں

باپ کی موت کے بعد طلاق، بیٹی فیملی پنشن کی حقدار نہیں؛ ہائی کورٹ کا فیصلہ

والد کی وفات کے بعد طلاق لینے والی بیٹی فیملی پنشن کی اہل نہیں

نئی دہلی 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تریپورہ ہائی کورٹ نے فیملی پنشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بیٹی نے اپنے والد کی وفات کے بعد طلاق لی ہو تو وہ فیملی پنشن کی حقدار نہیں ہوگی۔ عدالت کے مطابق ایسے معاملات میں موجودہ قوانین کے تحت پنشن کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس ایس ڈاڈا پورکیاستھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مخصوص حالات میں غیر شادی شدہ، بیوہ یا طلاق یافتہ بیٹیاں فیملی پنشن حاصل کر سکتی ہیں، لیکن اس کیس میں طلاق والد کی موت کے بعد ہوئی، اس لیے درخواست گزار اس زمرے میں شامل نہیں ہوتی۔

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ تریپورہ اسٹیٹ سول سروس رولز 2017 کے رول 8 کے تحت فیملی پنشن کا فائدہ خاندان کے صرف ایک اہل رکن کو دیا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے طے شدہ شرائط پر پورا اترنا ضروری ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے اپنے والد، جو اگرتلہ میونسپل کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازم تھے، کی وفات کے بعد فیملی پنشن میں حصہ مانگا۔ ان کے والد کا انتقال 2 دسمبر 2018 کو ہوا تھا۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ شادی کے چند دن بعد ہی اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ تقریباً 40 سال تک اپنے والد کے ساتھ رہتی رہی اور ان پر انحصار کرتی رہی۔

2021 میں طلاق کے بعد اس نے فیملی پنشن کے لیے درخواست دی، لیکن میونسپل حکام نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد خاتون نے انصاف کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ خاتون اپنے والد پر منحصر تھی، لیکن قانونی طور پر وہ ان کی وفات کے وقت شادی شدہ تھی، اس لیے وہ فیملی پنشن کی اہل نہیں بن سکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ امتیازی نہیں بلکہ موجودہ قوانین کے مطابق ہے، اور عدالت قوانین میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button