
امریکی حملے مسلسل دسویں رات بھی جاری، ایران کے فوجی کمانڈ مراکز اور میزائل تنصیبات نشانہ بن گئیں
ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی کارروائیاں کی گئی
واشنگٹن / تہران 21 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں فوجی کمانڈ مراکز، بحری اہداف، میزائل لانچنگ مقامات، ڈرون تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج ایران کی بحری صلاحیت، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔ امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس کی تمام فورسز مکمل الرٹ ہیں اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے مختلف علاقوں سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا، جبکہ بندر عباس، چابہار، کنارک اور بعض دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اصفہان کے گورنر نے شہر میں دھماکوں کی خبروں کی تردید کی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ "ہمہ گیر جنگ” کی صورتحال میں ہے۔ ان کے مطابق امریکی حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے اور بوشہر شہر بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ 7 جولائی کو دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد امریکی فضائی حملے، جو ابتدا میں جنوبی ایران تک محدود تھے، اب وسطی اور شمال مغربی علاقوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بھی غیر مؤثر ہو گئی، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات شروع ہونا تھے تاکہ جاری تنازع کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی تجارتی راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کے مستقبل کے حوالے سے بھی نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے۔



