بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکہ میں اسرائیل کی امداد پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، ڈیموکریٹک پارٹی دو حصوں میں تقسیم

گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے انتخابی حلقوں میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

 واشنگٹن،21 جولائی (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں): امریکہ میں اسرائیل کو دی جانے والی مالی معاونت ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں وزارتِ خارجہ کے بجٹ سے متعلق بل پر پیش کی گئی ایک ترمیم نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل اور غزہ سے متعلق پالیسی پر موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا۔ ترمیم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بل کے تحت مختص فنڈز اسرائیل کے لیے استعمال نہ کیے جائیں، جس کے حق میں 103 ڈیموکریٹک ارکان نے ووٹ دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ غزہ جنگ کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند اور روایتی قیادت کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ متعدد ارکان نے ترمیم کی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ اس میں فوجی اور سفارتی معاونت کے درمیان واضح فرق موجود نہیں تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی حمایت کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی غزہ اور لبنان سے متعلق پالیسیوں کے خلاف سیاسی احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔

کانگریس کے کئی ڈیموکریٹک ارکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے انتخابی حلقوں میں عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ووٹرز اب زیادہ شدت کے ساتھ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے بیرونِ ملک کس مقصد کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں۔

ترقی پسند تنظیم جسٹس ڈیموکریٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی نے پارٹی قیادت کو یہ احساس دلایا ہے کہ ووٹرز مشرقِ وسطیٰ سے متعلق زیادہ متوازن اور سخت مؤقف کے خواہاں ہیں۔ تنظیم کے ترجمان اسامہ اندرابی کے مطابق اسرائیل نواز لابی کے حمایت یافتہ بعض امیدواروں کی انتخابی ناکامی بھی بدلتے ہوئے سیاسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے حامی ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس ووٹنگ کو بنیادی پالیسی میں تبدیلی کے بجائے سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد ارکان نے نظریاتی اختلاف کے بجائے اپنے انتخابی حلقوں میں موجود عوامی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیا۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے اس ترمیم کی مخالفت کی، جس کے بعد پارٹی کے متعدد ارکان بھی مخالفت میں شامل ہو گئے۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی قیادت اس ترمیم کے خلاف متحرک نہ ہوتی تو اس کے حق میں ووٹ دینے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ کے بعد امریکی ڈیموکریٹک ووٹرز، بالخصوص نوجوان نسل، کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ یہی رجحان اب کانگریس کی ووٹنگ میں بھی نظر آ رہا ہے، جس کے باعث آئندہ انتخابات سے قبل اسرائیل، غزہ اور امریکی خارجہ پالیسی پر سیاسی بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button