بین الاقوامی خبریں

ایران معاہدے تک امریکی فوج تعینات رہے گی، ناکامی پر سخت ردعمل کا عندیہ: ٹرمپ

ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو شدید ردعمل ہوگا

واشنگٹن 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جامع معاہدہ طے پانے تک امریکی فوج، بحری جہاز، طیارے اور ہتھیار ایران کے اطراف میں تعینات رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ کا ردعمل غیر معمولی اور انتہائی سخت ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو ہر حال میں کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہفتہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ہیں۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس جنگ بندی کے بعد عالمی منڈیوں میں وقتی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں استحکام کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔

دفاعی حکام کے مطابق امریکی فوج مکمل طور پر تیار حالت میں رہے گی اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب ایران نے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت ممکن ہوگی، تاہم اس کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہوگی۔

ایران کی جانب سے ایک دس نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں علاقائی تنازعات کے خاتمے، جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور تعمیر نو کے لیے معاوضے جیسے نکات شامل ہیں۔ ان مذاکرات کے ذریعے ایران اپنی سفارتی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ پر زور دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button