فضا سے زمین تک: دشمن کے علاقے میں پھنس جانے والا پائلٹ اپنی جان کیسے بچاتا ہے؟
"زمین پر اترتے ہی سب سے اہم چیز دشمن سے بچنا اور زندہ رہنا ہے"
واشنگٹن 04 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد لاپتہ پائلٹ کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ امریکی افواج وقت کے خلاف دوڑ میں مصروف ہیں تاکہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے پہلے اپنے اہلکار تک پہنچ سکیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ امریکی جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل نے بتایا کہ دشمن کے علاقے میں گرنے کے بعد پائلٹ کی بقا مکمل طور پر اس کی تربیت اور فوری فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ SERE (بقا، فرار، مزاحمت اور بچاؤ) ٹریننگ پائلٹ کے زمین پر اترتے ہی عملی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس مرحلے پر پائلٹ کو فوری طور پر اپنے اردگرد کا جائزہ لینا ہوتا ہے تاکہ وہ محفوظ راستہ اختیار کر سکے اور خطرناک علاقوں سے بچ سکے۔
ماہرین کے مطابق پیراشوٹ کے ذریعے اترنے کے باوجود پائلٹ کو شدید چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر ٹانگوں اور ٹخنوں میں۔ اس لیے زمین پر پہنچتے ہی سب سے پہلا قدم اپنی جسمانی حالت کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
کینٹ ویل کے مطابق، اگر پائلٹ حرکت کرنے کے قابل ہو تو اسے فوراً اپنی لوکیشن کا اندازہ لگانا چاہیے، چھپنے کے لیے محفوظ جگہ تلاش کرنی چاہیے اور دشمن کی نظروں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہری علاقوں میں عمارتوں کی چھتیں جبکہ دیہی علاقوں میں کھلے میدان ریسکیو کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں۔ رات کے وقت نقل و حرکت زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس سے دشمن کی نظر سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
پانی اور خوراک کی تلاش بھی بقا کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر صحرائی علاقوں میں۔ امریکی پائلٹس اپنے ساتھ ایک خصوصی بقا کٹ رکھتے ہیں جس میں پانی، خوراک، طبی امداد، کمپاس، GPS، سگنلنگ آلات اور کمیونیکیشن ڈیوائسز شامل ہوتی ہیں۔
اس کٹ میں ہنگامی خوراک کے پیکٹس، پانی صاف کرنے کی گولیاں، تھرمل کمبل اور سگنل دینے والے آلات شامل ہوتے ہیں جو ریسکیو ٹیموں کو پائلٹ کی تلاش میں مدد دیتے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق، جنگی تلاش و بچاؤ (CSAR) ٹیمیں انتہائی تربیت یافتہ ہوتی ہیں اور لاپتہ اہلکاروں کو تلاش کرنے کے لیے فوری کارروائی کرتی ہیں، تاہم یہ مشن خطرناک ہوتا ہے اور مکمل حکمت عملی کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔
پینٹاگون کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران اب تک 365 امریکی فوجی زخمی جبکہ 13 ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دو امریکی جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جن میں سے ایک پائلٹ زندہ بچ گیا جبکہ دوسرے کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں پائلٹ کی بقا صرف اس کے آلات پر نہیں بلکہ اس کی ذہنی مضبوطی، تربیت اور فوری فیصلہ سازی پر منحصر ہوتی ہے، جو دشمن کے علاقے میں زندہ رہنے کا واحد راستہ بنتی ہے۔



