بین ریاستی خبریں

اتراکھنڈ میں شادی کا مسئلہ سنگین: نوجوانوں کے لیے جیون ساتھی کی تلاش مشکل

35,000 نوجوانوں کے مقابلے میں صرف 11,000 لڑکیاں

دہرادون 09 /اپریل دہرادون اتراکھنڈ میں شادی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں خاص طور پر دارالحکومت دہرادون میں نوجوانوں کے لیے جیون ساتھی تلاش کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ اکنامکس اینڈ سٹیٹسٹکس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق شہر میں ہر 35 ہزار نوجوانوں کے مقابلے میں صرف 11 ہزار لڑکیاں موجود ہیں، جب کہ 25 سے 34 سال کی عمر کے گروپ میں ہر تین مردوں کے لیے صرف ایک خاتون دستیاب ہے، جو صنفی عدم توازن کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 سال کے 35 ہزار سے زائد مرد شادی کے منتظر ہیں جبکہ اسی عمر کی خواتین کی تعداد صرف 11 ہزار 836 ہے۔ اسی طرح 30 سے 34 سال کے 10 ہزار 103 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد محض 3 ہزار 31 ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ محض وقتی نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

ریاست کے سرحدی اضلاع جیسے پتھورا گڑھ اور چمپاوت میں پہلے ہی شادی کے قابل لڑکیوں کی کمی کے باعث نیپالی خواتین سے شادیوں کا رجحان دیکھا جا رہا تھا، اور اب یہی بحران دہرادون جیسے شہری علاقوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ پہاڑی دیہات میں والدین اپنے بیٹوں کے لیے رشتے تلاش کرتے کرتے تھک چکے ہیں، تاہم محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق لڑکیوں پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور اصل مسئلہ صنفی فرق ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 35 سال سے زائد عمر کے 7 ہزار 25 مرد اب بھی شادی کے منتظر ہیں، جن میں سے 3 ہزار 281 افراد 40 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ مزید یہ کہ 60 سے 80 سال کی عمر کے 5 ہزار 714 مرد تنہا زندگی گزار رہے ہیں جبکہ اسی عمر کی خواتین کی تعداد 2 ہزار 968 ہے، جو اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button