قومی خبریں

وندے ماترم تنازع: بی جے پی صدر نتن نابن نے کانگریس کو ’نئی مسلم لیگ‘ قرار دے دیا

نئی دہلی، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے کے کانگریس کے فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی صدر نتن نابن نے کانگریس پر ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’نئی مسلم لیگ‘‘ قرار دیا ہے۔

نتن نابن نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں جاری اپنے بیان میں کانگریس کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے وندے ماترم سے متعلق اپنے مؤقف کو اب باقاعدہ قرارداد کی شکل دے دی ہے اور پارٹی کی ورکنگ کمیٹی نے طے کیا ہے کہ آئندہ کانگریس کے پروگراموں میں قومی گیت کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔

بی جے پی صدر نے الزام لگایا کہ وندے ماترم کو محدود کرنے کا یہ فیصلہ ’’بھارت ماتا‘‘ کی مقدس پکار کی توہین ہے۔ ان کے مطابق یہ ان ہزاروں شہدا کی قربانیوں کی بھی توہین ہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کے دوران اس گیت کو اپنے شعور کا حصہ بنائے رکھا۔

نابن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’کانگریس آج نئی مسلم لیگ بن چکی ہے‘‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی ووٹ بینک کی خاطر قومی وقار کو بار بار داؤ پر لگاتی رہی ہے۔

یہ بیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کے 19 اگست کے فیصلے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز کمیٹی نے 1937 کی اپنی قرارداد پر عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کے تحت پارٹی کے پروگراموں میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گائے جاتے ہیں۔

نتن نابن نے 15 اگست کو کانگریس کے دفتر میں وندے ماترم کے تمام بند گانے کے دوران پیدا ہونے والے تنازع کا بھی بالواسطہ حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل قومی گیت کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک معاملے کو کانگریس نے محض ’’اتفاق‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا تھا، لیکن اب اسی مؤقف کو پارٹی کی باضابطہ پالیسی بنا دیا گیا ہے۔

بی جے پی صدر نے مزید الزام لگایا کہ کانگریس کا تازہ فیصلہ محض سیاسی دفاع نہیں بلکہ ووٹ بینک کی سیاست کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے ووٹوں کے حصول کے لیے کئی مرتبہ ملک کے قومی وقار کو قربان کیا ہے۔

کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وندے ماترم کو لے کر سیاسی کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب مرکز کی جانب سے قومی گیت کی مکمل گائیکی کو سرکاری تقریبات کے پروٹوکول میں شامل کرنے پر بھی بحث جاری ہے۔ کانگریس نے تاہم اپنے 1937 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی تقریبات میں صرف پہلے دو بند گانے کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔

بی جے پی نے کانگریس کے اس فیصلے کو قومی گیت اور حب الوطنی کے حوالے سے اس کی پالیسی پر سوال اٹھانے کا معاملہ بنایا ہے، جبکہ اس معاملے پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سیاسی بیان بازی مزید تیز ہونے کے آثار ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button