بین ریاستی خبریں

وارانسی حراستی موت کیس: 29 سال بعد دو پولیس اہلکار اور ڈاکٹر مجرم قرار، عدالت نے سنائی سخت سزا

سرکاری ڈاکٹر کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

وارانسی، یکم جون: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اتر پردیش کے وارانسی میں ایک عدالت نے پولیس حراست میں نوجوان کی موت کے 29 سال پرانے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں اور ایک سرکاری ڈاکٹر کو قصوروار قرار دے کر مختلف مدت کی سزائیں سنائیں۔

عدالت نے سندر پور پولیس چوکی کے اس وقت کے انچارج سب انسپکٹر کو 10 سال قید بامشقت اور متعلقہ تھانے کے اس وقت کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ طور پر حقائق چھپانے اور جرم پر پردہ ڈالنے کے الزام میں سرکاری ڈاکٹر کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ 1997 میں لنکا تھانہ علاقے کی سندر پور پولیس چوکی میں پیش آیا تھا۔ الزام ہے کہ پولیس نے ایک مقامی نوجوان کو محض 100 روپے کی چوری کے شبہ میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔ دورانِ حراست نوجوان کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

تحقیقات کے مطابق نوجوان کی موت کے بعد پولیس اہلکاروں نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے اس کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کیا، اہلِ خانہ کو اطلاع دیے بغیر پوسٹ مارٹم کرایا اور رات کے وقت نعش کو جلانے کی کوشش کی۔

متوفی کے اہلِ خانہ کے احتجاج اور انصاف کے مطالبے کے بعد معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کی گئی۔ سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان کی موت مبینہ پولیس تشدد کے باعث ہوئی تھی اور بعد ازاں شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں جسم پر موجود زخموں کا مناسب ذکر نہیں کیا اور موت کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی تاکہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو بچایا جا سکے۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر 11 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی کے دوران 4 ملزمان کا انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت نے ثبوت کی کمی کی بنیاد پر اس وقت کے ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ اور دو کانسٹیبلوں کو بری کر دیا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انصاف ملنے میں تقریباً تین دہائیاں لگ گئیں، تاہم قصورواروں کو سزا ملنا انصاف کی فتح ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button