بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے حماس حملے کی تیاری کے علم سے کیوں ناکام رہے؟

ایران نے 7 اکتوبر حملہ سے قبل 500 سے زیادہ فلسطینیوں کو تربیت دی: امریکی میڈیا

لندن،26اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی، مغربی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز اب بھی اس بڑی ناکامی کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل کے اندر شروع کیے گئے غیر مسبوق حملوں کے نتیجے میں ہوئی۔حماس کی جنگی تیاریوں سے متعلق دو ذرائع امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حماس کے کارکنوں کا ایک چھوٹا سا سیل اسرائیل پر اچانک حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ سرنگوں میں موجود ٹیلی فون لائنوں نے عناصر کو خفیہ طور پر ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کی اجازت دی یعنی اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار ان کا سراغ نہیں لگا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سال کی منصوبہ بندی کے دوران سرنگوں میں کام کرنے والے چھوٹے سیل فون لائنز کا استعمال کرتے ہوئے بات چیت اور آپریشن کی منصوبہ بندی کرتے تھے لیکن یہ بات اس وقت تک خفیہ رہی جب تک فعال ہونے کا وقت نہیں آیا اور حماس کے سینکڑوں جنگجوؤں کو 7 اکتوبر کو حملے کے لیے طلب کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی یا امریکی انٹیلی جنس کے ذریعے پتہ لگانے سے بچنے کے لیے انہوں نے دو سال کے دوران کمپیوٹر یا موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کیا۔ایک ذریعے نے کہا کہ فوری علاقے سے باہر بہت زیادہ بحث اور ہم آہنگی نہیں تھی۔اسرائیل نے امریکی حکام کے ساتھ جو انٹیلی جنس شیئر کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح حماس نے آپریشن کی منصوبہ بندی کو پرانے زمانے کے انٹیلی جنس طریقہ کار کے ذریعے چھپایا۔ وہ فون پر بات کے بجائے براہ راست ملاقاتیں کرتے اور ڈیجیٹل مواصلاتی آلات سے گریز کرتے۔یہ اکاؤنٹ اس بارے میں ایک نیا نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ کیوں اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس حماس کے اچانک حملے کو بے نقاب کرنے میں ناکام رہے، جس نے ایک آپریشن میں کم از کم 1,500 جنگجوؤں کو سرحد پار سے اسرائیل میں داخل کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔’سی این این‘ نے پہلے اطلاع دی تھی کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے اسٹریٹجک انتباہات کی ایک سیریز نے کسی بھی ملک کے حکام کو 7 اکتوبر کے واقعات کا اندازہ لگانے کا موقع نہیں دیا۔

اسرائیلی فوج بول چال میں حماس کی طرف سے پچھلے 15 سالوں میں تعمیر کی گئی سرنگوں کو غزہ میٹرو کہتے ہیں۔ یہ سرنگیں ایک وسیع بھول بھلیاں ہیں جو میزائلوں اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کو کسی کا دھیان نہ جانے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔آئی ڈی ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میں حماس کے لیے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز موجود ہیں۔اکتوبر کے حملے سے قبل اسرائیل کو معلوم تھا کہ فلسطینی عسکریت پسند تاروں سے منسلک مواصلاتی نظام استعمال کر رہے ہیں۔

اس موسم گرما میں جب آئی ڈی ایف نے شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین پر چھاپہ مارا تو ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق آئی ڈی ایف نے محفوظ مواصلاتی لائنیں اور کلوز سرکٹ نگرانی والے کیمرے دریافت کیے تاکہ اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت کی پیشگی وارننگ دی جا سکے۔اس وقت اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے جنین میں مسلح سیلوں کے زیر استعمال مشترکہ آپریشنز کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا۔ اسے جدید نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ مقام ان کے درمیان رابطے کا مرکز تھا۔

ایران نے 7 اکتوبر حملہ سے قبل 500 سے زیادہ فلسطینیوں کو تربیت دی: امریکی میڈیا

نیویارک،26اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل میں حیران کن حملہ کیا گیا۔ ان حملے میں 1400 اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔ اس بڑے حملے کے راز آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں۔ اس تناظر میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے سے پہلے کے ہفتوں میں حماس کے سینکڑوں افراد نے ایران میں خصوصی جنگی تربیت حاصل کی ہے۔ حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات سے واقف لوگوں نے یہ بات امریکی اخبار ’’دی وال سٹریٹ‘‘ کو بتائی۔ذرائع نے بتایا کہ حماس اور تحریک اسلامی جہاد کے لگ بھگ 500 عسکریت پسندوں نے ستمبر کے دوران تربیتی مشقوں میں حصہ لیا۔ ان تربیتی مشقوں کی قیادت ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے غیر ملکی آپریشنز بازو قدس فورس کے افسران کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران باقاعدہ طور پر فلسطینی عسکریت پسندوں کو ایران اور دیگر مقامات پر تربیت دیتا ہے تاہم حملے سے قبل ان کے پاس اجتماعی تربیت کے کوئی اشارے نہیں تھے۔ امریکی حکام اور انٹیلی جنس سے واقف لوگوں نے بتایا ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران نے خاص طور پر سات اکتوبر کے واقعات کی تیاری کے لیے مشقیں کی تھیں۔بدھ کو اسرائیلی فوج نے حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی مدد میں ایران کے کردار کے بارے میں بات کی۔ آئی ڈی ایف کے چیف ترجمان جنرل ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ ’جنگ سے پہلے ایران نے حماس کی براہ راست رقم، تربیت، ہتھیاروں اور تکنیکی معلومات سے مدد کی تھی۔

حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑی فضائی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اسرائیل کی خوفناک بمباری میں 6000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس تنازع کی وجہ سے ایران اور اس کی حمایت کرنے والے یمن، شام، لبنان اور عراق تک پھیلے ہوئے مسلح گروپوں کے نیٹ ورک کے ساتھ تصادم پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اسرائیل اور امریکہ نے حماس اور دیگر اسرائیل مخالف گروپوں کی حمایت کرنے میں ایران کے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button