بین الاقوامی خبریںسرورق

روس چرنوبل کے جوہری علاقہ پر قبضے کا شدید خواہاں کیوں تھا ؟

واشنگٹن ، 25فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گذشتہ روز جمعرات کو روس اور یوکرین کی افواج کے درمیان چرنوبل پر کنٹرول کے لیے شدید جھڑپیں ہوئیں۔ دنیا کے بدترین جوہری حادثے کے سبب یہ مقام ابھی تک تابکاری کا حامل ہے۔

یوکرین کے شہر چرنوبل کے جوہری پاور پلانٹ Chernobyl Nuclear Plant میں پیش آنے والا یہ واقعہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کا ایک اہم عامل تھا۔چرنوبل کے بند جوہری پلانٹ پر روسی افواج کے قبضے سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ہمارا دفاع کرنے والے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں-

تاکہ سانحہ دوبارہ نہ پیش آئے۔جغرافیائی لحاظ سے چرنوبل کا مقام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بیلا روس سے یوکرین کے دارالحکومت کیف جانے والے مختصر ترین راستے پر واقع ہے۔

مغربی عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق چرنوبل پر قبضے کی صورت میں روس ، بیلا روس سے کیف جانے والے تیز ترین راستے کو استعمال میں لائے گا۔دوسری جانب امریکی فوج کے سابق سربراہ جیک کین کے مطابق چرنوبل کی کوئی عسکری اہمیت نہیں ہے تاہم یہ بیلا روس سے کیف جانے والے مختصر ترین راستے پر واقع ہے۔

لہذا روس کا تزویراتی ہدف سر کو کاٹ دینا ہے، تا کہ یوکرین کی حکومت گرائی جا سکے۔ یوکرین پر روس کا حالیہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی یورپی ملک پر ہونے والی سب سے بری فوجی کارروائی ہے۔

چرنوبل کا جوہری پلانٹ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے شمال میں 67 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اپریل 1986 میں ایک ناکام سیفٹی ٹیسٹ کے دوران میں پلانٹ کا چوتھا ری ایکٹر دھماکے سے تباہ ہو گیا۔

اس کے سبب خارج ہونے والی تابکاری یورپ کے بڑے حصے میں پھیل گئی اور امریکا کے مشرق تک پہنچ گئی۔ دھماکے نے مرکزی طور پر یوکرین اور بیلا روس کے علاوہ روس اور یورپ کو متاثر کیا۔

اس سانحے کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے۔ تابکاری کے اثرات سے دنیا بھر میں سرطان کے سبب 93000 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

سوویت یونین کے حکام نے ابتدائی طور پر دھماکے کا اعتراف نہ کر کے واقعے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس اقدام نے روسی صدر میخائل گورباچوف کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button