قومی خبریں

بھارت میں UPI نے توڑا ریکارڈ، 10 سال میں لین دین 1.78 کروڑ سے بڑھ کر 24,162 کروڑ ہوگیا

10 سال میں لین دین 13 ہزار گنا بڑھ گیا

نئی دہلی، 24 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کے رجحان میں تیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ UPI کے ذریعے ہونے والے لین دین میں صرف ایک دہائی کے دوران تقریباً 13 ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2016-17 میں ملک بھر میں UPI کے ذریعے صرف 1.78 کروڑ ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد بڑھ کر 24,162 کروڑ سے زیادہ ہوگئی۔

بھارت میں UPI سروس 25 اگست 2016 کو نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی نگرانی میں شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے UPI نے ملک میں رقم بھیجنے اور ادائیگی کرنے کے طریقے کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔

صرف ٹرانزیکشنز کی تعداد ہی نہیں بڑھی بلکہ UPI کے ذریعے منتقل ہونے والی رقم میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2016-17 میں UPI کے ذریعے تقریباً 0.07 لاکھ کروڑ روپے کی ادائیگیاں ہوئی تھیں، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے ہوگئیں۔

یعنی دس سال کے دوران UPI کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں کی مجموعی مالیت میں 4 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جولائی میں ایک ماہ کا نیا ریکارڈ

UPI کے استعمال میں رواں سال بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مئی 2026 میں پہلی مرتبہ ایک ماہ کے دوران UPI ٹرانزیکشنز کی تعداد 2,300 کروڑ سے تجاوز کر گئی اور مجموعی طور پر 2,320 کروڑ لین دین ہوئے۔

جولائی میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔ اس مہینے 2,366 کروڑ UPI ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جو اب تک ایک ماہ میں ہونے والی سب سے زیادہ UPI ادائیگیاں ہیں۔

UPI کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نظام سے منسلک بینکوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

مالی سال 2016-17 میں صرف 44 بینک UPI پر فعال تھے، جبکہ مالی سال 2025-26 تک یہ تعداد بڑھ کر 703 بینک ہوگئی۔ ان میں سرکاری و نجی بینکوں کے ساتھ اسمال فنانس بینک، پیمنٹ بینک اور کوآپریٹو بینک بھی شامل ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق UPI کا استعمال بڑی رقم کی منتقلی کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی چھوٹی خریداریوں کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں دکانداروں اور کاروباری اداروں کو کی جانے والی تقریباً 86 فیصد UPI ادائیگیاں 500 روپے سے کم کی تھیں۔

اسی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص کو رقم بھیجنے والی تقریباً 59 فیصد ادائیگیاں بھی 500 روپے سے کم تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دکانداروں اور کاروباری اداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کا حصہ UPI کی مجموعی ٹرانزیکشنز میں 63 فیصد رہا، جبکہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو رقم بھیجنے والی ادائیگیوں کا مجموعی مالی قدر میں حصہ 71 فیصد تھا۔

بھارت کا UPI نظام اب عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے UPI کو لین دین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی نظام قرار دیا ہے۔

2025 میں دنیا بھر میں ہونے والی ریئل ٹائم ادائیگیوں میں UPI کا حصہ تقریباً 49 فیصد تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button