قومی خبریں

105 سالہ قتل کے مجرم کو سپریم کورٹ سے راحت، عمر اور صحت کے پیش نظر عمرقید سے مستقل رہائی

1988 کے قتل کیس میں 1994 میں ہوئی تھی عمرقید، 99 سال کی عمر میں دائر کی تھی قبل از وقت رہائی کی درخواست؛ 2024 میں ملی تھی عبوری ضمانت

نئی دہلی، 21 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں 105 سالہ عمرقید کے مجرم رسک چندر منڈل کو  راحت دیتے ہوئے ان کی قبل از وقت رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ان کی انتہائی عمر اور صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 2024 میں دی گئی عبوری ضمانت کو حتمی قرار دے دیا، جس کے بعد اب انہیں دوبارہ جیل نہیں جانا ہوگا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ اگرچہ منڈل نے عمرقید کی پوری مدت مکمل نہیں کی ہے، تاہم ان کی موجودہ عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں مزید جیل میں رکھنے یا دوبارہ حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد وہ اپنی باقی زندگی آزاد شہری کی حیثیت سے گزار سکیں گے۔

1988 کے قتل کیس میں ہوئی تھی عمرقید

رسک چندر منڈل کا تعلق مغربی بنگال کے مالدہ ضلع سے ہے اور ان کی پیدائش 1920 میں ہوئی تھی۔ انہیں 1988 میں درج ایک قتل کے مقدمے میں 12 دسمبر 1994 کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 68 سال تھی۔ انہیں بھارتی تعزیرات کی دفعہ 302 کے تحت عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی۔

منڈل نے اپنی سزا کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن 2018 میں ان کی اپیل مسترد ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا، جہاں بھی ان کی اپیل قابل سماعت نہیں پائی گئی اور اسے مسترد کر دیا گیا۔

رسک چندر منڈل نے 2020 میں، جب ان کی عمر 99 سال تھی، اپنی انتہائی عمر اور صحت سے متعلق مسائل کی بنیاد پر قبل از وقت رہائی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ مئی 2021 میں عدالت نے مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی جسمانی حالت اور صحت سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 29 نومبر 2024 کو انہیں عبوری ضمانت اور پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت ان کی عمر اور صحت سے متعلق پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے عبوری راحت دی تھی۔

تقریباً تین دہائیوں تک جیل میں رہنے والے رسک چندر منڈل کی قانونی جدوجہد اب ختم ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد 2024 میں دی گئی ان کی عبوری رہائی کو حتمی شکل مل گئی ہے اور انہیں عمرقید کی باقی مدت پوری کرنے کے لیے دوبارہ جیل نہیں بھیجا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button