
کلکٹر اب دیں گے ہندوستانی شہریت،8 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں CAA کے تحت فیصلہ
CAA کے تحت شہریت کا عمل ضلع سطح پر منتقل، کلکٹروں کو ملے اہم اختیارات
نئی دہلی، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ہندوستانی شہریت دینے کے عمل میں مرکزی حکومت نے اہم تبدیلی کی ہے۔ وزارت داخلہ نے شہریت کے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے چھ ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضلع کلکٹروں کو شہریت سے متعلق مخصوص درخواستوں پر کارروائی اور فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت متعلقہ ضلع کلکٹر شہریت کے لیے درخواستیں وصول کرنے، دستاویزات کی جانچ، ضروری تحقیقات اور درخواست گزار کی اہلیت کا جائزہ لینے کے بعد شہریت دینے کا فیصلہ کر سکیں گے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری Citizenship (Third Amendment) Rules, 2026 کے تحت یہ اختیار شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 6B کے تحت رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کی درخواستوں کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ شق پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آنے والی ان مخصوص غیر مسلم اقلیتوں کے لیے شہریت کے عمل سے متعلق ہے جو قانون میں مقررہ شرائط پوری کرتی ہیں۔ نئے قواعد کے تحت گجرات، راجستھان، پنجاب، مغربی بنگال، آسام اور تریپورہ کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں متعلقہ ضلع کلکٹر اس عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم آسام اور تریپورہ کے قبائلی علاقوں کو اس انتظام سے باہر رکھا گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق درخواست موصول ہونے کے بعد کلکٹر کی جانب سے فارم IX میں درخواست کی وصولی کا اعتراف الیکٹرانک طریقے سے جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد کلکٹر درخواست گزار کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات کی جانچ کرے گا اور ضرورت پڑنے پر درخواست گزار کی اہلیت اور موزونیت کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات بھی کرا سکتا ہے۔ درخواست گزار کو شہریت ایکٹ کے دوسرے شیڈول میں مقرر کردہ طریقے کے مطابق حلفِ وفاداری بھی دینا ہوگا۔
کلکٹر درخواست اور تحقیقات سے مطمئن ہونے کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ درخواست گزار دفعہ 6B کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کا اہل ہے یا نہیں۔ اگر درخواست گزار مقررہ قانونی شرائط پوری کرتا ہے اور کلکٹر اس کی اہلیت سے مطمئن ہوتا ہے تو اسے ہندوستانی شہریت دینے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ اگر درخواست گزار کو مناسب موقع فراہم کیے جانے کے باوجود درخواست پر دستخط کرنے یا حلفِ وفاداری کے لیے ذاتی طور پر حاضر نہیں ہوتا تو اس کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔
اس تبدیلی سے پہلے شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت دفعہ 6B کی درخواستوں پر کارروائی کا اختیار بااختیار کمیٹی اور ضلعی سطح کی کمیٹی کے پاس تھا۔ نئے قواعد کے تحت گجرات، راجستھان، پنجاب، مغربی بنگال، آسام، تریپورہ، جموں و کشمیر اور لداخ میں ان کمیٹیوں کے پاس زیر التوا دفعہ 6B کی درخواستیں متعلقہ ضلع کلکٹروں کو منتقل کی جائیں گی۔ اس کے بعد ان درخواستوں پر بھی کلکٹر مقررہ طریقہ کار کے مطابق کارروائی اور فیصلہ کریں گے۔
نئے نظام میں درخواست گزاروں کے لیے بھی طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔ دفعہ 6B کے تحت رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے لیے درخواستیں الیکٹرانک طریقے سے متعلقہ علاقے کے ضلع کلکٹر کو جمع کرانی ہوں گی۔ مرکزی حکومت نے شہریت کے قواعد کی مختلف دفعات اور متعلقہ فارموں میں بھی ضروری ترامیم کی ہیں تاکہ ضلع کلکٹر کو نئے اختیارات کے مطابق درخواستوں کی کارروائی کا قانونی اختیار حاصل ہو سکے۔
قواعد 14 اور 15 میں کلکٹر کو متعلقہ اختیارات کے حوالے سے شامل کیا گیا ہے، جبکہ قاعدہ 38 میں بھی نامزد افسر کے ساتھ کلکٹر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شیڈول 1 میں شامل فارم IIA، IIIA، IVA، VA، VIA، VIIA اور VIIIA میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نامزد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے رہائشی درخواست گزاروں کے لیے مکمل شدہ فارم اب متعلقہ ضلع کلکٹر کے پاس جمع کرائے جائیں گے اور کلکٹر رول 11A کے تحت ان درخواستوں پر کارروائی اور فیصلہ کرے گا۔
وزارت داخلہ نے متعلقہ پروویژن میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پوسٹس یا سپرنٹنڈنٹ آف پوسٹس کے ساتھ ضلع کلکٹر کو شامل کرنے کے لیے شیڈول IC میں بھی ترمیم کی ہے۔ وزارت نے شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 18 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ شہریت کے اصل قواعد فروری 2009 میں نافذ کیے گئے تھے، جبکہ تازہ ترمیم سے قبل ان میں 18 مئی 2026 کو تبدیلی کی گئی تھی۔
وزارت داخلہ نے 19 اگست کو ایک الگ حکم بھی جاری کیا ہے۔ اس حکم کے تحت نامزد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بااختیار کمیٹی کے پاس زیر التوا دفعہ 6B کی درخواستیں اور ضلعی سطح کی کمیٹی کے پاس زیر التوا متعلقہ درخواستیں اب متعلقہ ضلع کلکٹروں کو منتقل کی جائیں گی۔ اس اقدام کے بعد ان علاقوں میں CAA کے تحت شہریت کی درخواستوں کی جانچ اور فیصلہ کرنے کا عمل ضلع کی سطح پر منتقل ہو جائے گا اور کلکٹر اس پورے عمل میں مرکزی مجاز افسر کے طور پر کام کرے گا۔



