بین الاقوامی خبریں

مرحوم یحییٰ السنوار کا پیغام ان کے گھر والوں کوبعد از مرگ پہنچا:ذرائع

حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے قتل سے کچھ عرصہ قبل کی نئی تفصیلات سامنے آئی

مرحوم یحییٰ السنوار کا پیغام ان کے گھر والوں کوبعد از مرگ پہنچا:ذرائع

دبئی، 3نومبر (ایجنسیز)

گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح کے محلے تل السلطان میں اسرائیلی فوجی آپریشن میں مارے جانے کے دو دن بعد حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے قتل سے کچھ عرصہ قبل کی نئی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔حماس کے اندر اور قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ السنوار نے اپنے اہل خانہ کو اپنے بھتیجے ابراہیم محمد السنوار کے قتل کی تفصیلات کے بارے میں ایک پیغام بھیجا اس عرصے میں ان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ان کی تدفین کی جگہ کے بارے میں بھی خاندان کو بتایا گیا۔الشرق الاوسط اخبار کی رپورٹ کے مطابق السنوار کا یہ پیغام خود ان کی ہلاکت کے دو دن بعد پہنچا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ جس شخص نے پوری جنگ کے دوران حماس کے رہ نما کا ساتھ دیا اور سائے کی طرح ان کے ساتھ رہے وہ ابراہیم محمد السنوار تھے۔ یہ السنوار کے بھتیجے تھے اور بھائی محمد السنوار کے بیٹے تھے۔ وہ القسام بریگیڈز کے ایک اہم رہنما تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ابراہیم ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ اسے اس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ اسرائیلی افواج کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لیے رفح میں ایک سرنگ سے باہر نکلا تھا۔ وہ اس وقت اپنے چچا یحییٰ السنوار کے ساتھ تھا۔

اس کے علاوہ اس نے تصدیق کی کہ السنوار نے اپنے بھائی کے خاندان کو ایک خط بھیجا جس میں ابراہیم کے قتل کے حالات کی وضاحت کی گئی تھی، اور ایک زیر زمین سرنگ میں اس کی تدفین کی جگہ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ اس نے اس کی لاش خود دفن کی اور نماز جنازہ ادا کی ہے۔لیکن سنوار کی موت کے دو دن بعد تک خاندان کو یہ خط موصول ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے پہنچانے میں دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگا، کیونکہ اسنوار اسرائیلی بمباری میں سکیورٹی حالات کی مشکلات اور پیچیدگیوں کی وجہ سے مسلسل اپنے ٹھکانے بدل رہے تھے۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یحییٰ السنوار کئی مہینوں تک رفح میں رہے۔ اس کے کئی علاقوں میں گھومے۔گذشتہ مئی کے آخر سے مغربی علاقوں میں موجود رہے۔ وہ زیر زمین اور زمین کے اوپر والے علاقوں میں بھی چلتے رہے۔سترہ 17 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے السنوار کو ہلاک کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی جس کے بعد بتایا گیا کہ السنوار کو ایک کارروائی میں ماردیا گیا ہے۔ السنوار کی ہلاکت کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوئی بلکہ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ محض اتفاقیہ طو پر مارے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button